حدیث نمبر: 4403
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ جُهَيْنَةَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ . فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيِّهَا ، فَقَالَ : أَحْسِنْ إِِلَيْهَا حَتَّى تَضَعَ مَا فِي بَطْنِهَا ، فَإِِذَا وَضَعَتْ فَأْتِنِي بِهَا . فَلَمَّا وَضَعَتْ أَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهَا ، فَشُدَّ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا . فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ عَلَى سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ ، وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ جَلَّ وَعَلا " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : وَهِمَ الأَوْزَاعِيُّ فِي كُنْيَةِ عَمِّ أَبِي قِلابَةَ ، إِِذِ الْجَوَادُ يَعْثُرُ ، فَقَالَ : عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي الْمُهَاجِرِ ، وَإِِنَّمَا هُوَ أَبُو الْمُهَلَّبِ اسْمُهُ : عَمْرُو بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ زَيْدٍ الْجَرْمِيُّ مِنْ ثِقَاتِ التَّابِعِينَ وَسَادَاتِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جہینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے قابل حد جرم کا ارتکاب کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر حد قائم کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سر پرست کو بلوایا اور فرمایا: اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو جب تک یہ بچے کو جنم نہیں دیتی جب یہ بچے کو جنم دیدے تو تم اسے میرے پاس لے آنا جب اس عورت نے بچے کو جنم دے دیا تو وہ شخص اس عورت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس کے کپڑے کو مضبوطی سے باندھا گیا پھر آپ کے حکم کے تحت اسے سنگسار کر دیا گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کی نماز جنازہ ادا کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی عورت کی نماز جنازہ ادا کریں گے جس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ایک ایسی توبہ کی ہے اگر اسے اہل مدینہ سے تعلق رکھنے والے ستر افراد پر تقسیم کیا جائے تو ان سب کے لیے کافی ہو، کیا تمہیں اس سے زیادہ افضل اور کوئی شخص ملتا ہے اس نے اپنی ذات کو اللہ کے لیے قربان کر دیا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) امام اوزاعی کو ابوقلابہ کے چچا کی کنیت ذکر کرنے میں وہم ہوا ہے کیونکہ گھوڑا ٹھوکر کھا جاتا ہے انہوں نے یہ کہا: ہے: یہ روایت ابوقلابہ کے حوالے سے ان کے چچا ابومہاجر کے حوالے سے منقول ہے حالانکہ ان کے چچا کی کنیت ابومہلب ہے اور ان کا نام عمرو بن معاویہ بن زید جرمی ہے یہ ثقہ تابعین میں سے ہیں اور اہل بصرہ کے سرداروں میں سے ہیں۔