کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر اس خبر کا جو اس بات کی دلیل ہے کہ حدود اس پر قائم کی جائیں جن پر لازم ہو، خواہ وہ شریف ہو یا ادنیٰ
حدیث نمبر: 4402
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ بِعَسْقَلانَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّتْهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ ، فَقَالُوا : مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالُوا : وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِِلا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، حُبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ؟ " ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ ، فَقَالَ : " إِِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ ، وَإِِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ ، وَأَيْمُ اللَّهِ ، لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا " .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، قریش ایک مخزومی خاتون کے معاملے میں بہت پریشان تھے جس نے چوری کی تھی لوگوں نے کہا: اس خاتون کے بارے میں کون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات کرے گا تو کسی نے کہا: یہ جرات صرف اسامہ بن زید کر سکتے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ہیں جب سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کی ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہے ہو؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: تم سے پہلے کے لوگ اس لیے ہلاکت کا شکار ہو گئے کہ جب ان میں سے بڑے خاندان کا کوئی شخص چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کسی کمزور خاندان کا شخص چوری کرتا تھا تو وہ اس پر حد جاری کر دیا کرتے تھے اللہ کی قسم! اگر محمد کی صاحبزادی فاطمہ نے چوری کی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ بھی ضرور کٹوا دیتا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحدود / حدیث: 4402
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ابن ماجه» (2547): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4386»