کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر اس اجازت کا کہ حدود کے نفاذ میں توقف اور اس کے اسباب کی احتیاط سے جانچ پڑتال کی جائے جو رعایا کے لیے احتیاط میں ہو
حدیث نمبر: 4399
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الصَّامِتِ ابْنِ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : جَاءَ الأَسْلَمِيُّ إِِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ بِالزِّنَى ، يَقُولُ : أَتَيْتُ امْرَأَةً حَرَامًا ، وَفِي ذَلِكَ يَعْرِضُ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ فِي الْخَامِسَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ : " أَنِكْتَهَا ؟ " فَقَالَ : نَعَمْ . فَقَالَ : " هَلْ غَابَ ذَلِكَ مِنْكَ فِيهَا ، كَمَا يَغِيبُ الْمِرْوَدُ فِي الْمُكْحُلَةِ وَالرِّشَاءُ فِي الْبِئْرِ ؟ " فَقَالَ : نَعَمْ . فَقَالَ : " فَهَلْ تَدْرِي مَا الزِّنَا ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، أَتَيْتُ مِنْهَا حَرَامًا مِثْلَ مَا يَأْتِي الرَّجُلَ مِنِ امْرَأَتِهِ حَلالا . قَالَ : " فَمَا تُرِيدُ بِهَذَا الْقَوْلِ ؟ " قَالَ : أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي . فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرْجَمَ فَرُجِمَ . فَسَمِعَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : انْظُرُوا إِِلَى هَذَا الَّذِي سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، فَلَمْ تَدَعْهُ نَفْسُهُ حَتَّى رُجِمَ رَجْمَ الْكَلْبِ . قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا ، فَمَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ شَائِلٍ بِرِجْلِهِ ، فَقَالَ : " أَيْنَ فُلانٌ وَفُلانٌ ؟ " فَقَالا : نَحْنُ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ لَهُمَا : " كُلا مِنْ جِيفَةِ هَذَا الْحِمَارِ " . فَقَالا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَنْ يَأْكُلُ مِنْ هَذَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا نِلْتُمَا مِنْ عِرْضِ هَذَا الرَّجُلِ آنِفًا أَشَدُّ مِنْ أَكَلِ هَذِهِ الْجِيفَةِ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِِنَّهُ الآنَ فِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اسلمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے اپنی ذات کے بارے میں چار مرتبہ زنا کرنے کی گواہی دی اس نے یہ کہا: میں نے ایک عورت کے ساتھ حرام طور پر (صحبت کی ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اعراض کرتے رہے یہاں تک کہ جب وہ پانچویں مرتبہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: کیا تم نے اس عورت کے ساتھ صحبت کی ہے اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہاری شرم گاہ اس کی شرم گاہ میں یوں غائب ہو گئی تھی جس طرح سرمہ دانی میں سلائی گم ہو جاتی ہے یا کنویں میں رسی چلی جاتی ہے اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم جانتے ہو زنا کیا ہے۔ اس نے جواب دیا: جی ہاں میں نے اس عورت کے ساتھ حرام طور پر وہ عمل کیا جو کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ حلال طور پر کرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تم یہ کہہ کر کیا چاہتے ہو اس نے عرض کی: میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پاک کر دیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ اسے سنگسار کر دیا جائے تو اسے سنگسار کر دیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے دو آدمیوں کو سنا ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے یہ کہہ رہا تھا: ذرا اس شخص کی طرف دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا پردہ رکھا تھا، لیکن اس نے اپنے آپ کو ایسی حالت میں کر دیا کہ اسے کتے کی طرح سنگسار کر دیا گیا۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کی بات پر خاموش رہے پھر آپ کا گزر ایک مردار گدھے کے پاس سے ہوا جس کا پاؤں اوپر کی طرف اٹھا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: فلاں اور فلاں شخص کہاں ہیں؟ ان دونوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم یہاں ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: تم دونوں اس گدھے کا مردار کھا لو ان دونوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مغفرت کرے اسے کون کھا سکتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ابھی تھوڑی دیر پہلے اس شخص کی عزت پر جو حملہ کیا ہے وہ اس مردار کو کھانے سے زیادہ برا ہے اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے وہ شخص اس وقت جنت کی نہروں میں ہے۔