کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 4370
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ الْكُوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا حِلْفَ فِي الإِِسْلامِ ، وَمَا كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الإِِسْلامُ إِِلا شِدَّةً أَوْ حِدَّةً " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” اسلام میں (زمانہ جاہلیت کے رواج کے مطابق) حلیف بنانے کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور جو کچھ زمانہ جاہلیت میں تھا اسلام نے اس کی شدت میں اضافہ ہی کیا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس کی تیزی میں اضافہ ہی کیا ہے۔ “