کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر اس کیفیت کا کہ بعض قسموں کے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سہواً ہوئیں وہ ان کے خلاف عمل کرتے تھے
حدیث نمبر: 4354
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو السَّلِيلِ ، عَنْ زَهْدَمٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : كُنَّا مُشَاةً ، فَأَتَيْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ ، فَقَالَ : " وَاللَّهِ لا أَحْمِلُكُمُ الْيَوْمَ " ، أَوْ قَالَ : وَاللَّهِ لا أَحْمِلُكُمْ . قَالَ : فَلَمَّا رَجَعْنَا إِِلَى الْمَنْزِلِ ، أَوْ قَالَ : حِينَ رَجَعْنَا إِِلَى الْمَنْزِلِ ، أَتَاهُ قَطِيعٌ مِنْ إِِبِلٍ ، فَإِِذَا قَدْ بَعَثَ إِِلَيْنَا بِثَلاثٍ بُقْعِ الذُّرَى ، قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ : أَنَرْكَبُ وَقَدْ حَلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَأَتَيْنَاهُ ، فَقُلْنَا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِِنَّكَ قَدْ حَلَفْتَ . قَالَ : " إِِنِّي وَاللَّهِ مَا أَحْمِلُكُمْ ، إِِنَّمَا حَمَلَكُمُ اللَّهُ ، وَمَا عَلَى الأَرْضِ مِنْ يَمِينٍ أَحْلِفُ عَلَيْهَا ، ثُمَّ أَرَى خَيْرًا مِنْهَا إِِلا أَتَيْتُهَا أَوْ أَتَيْتُهُ " .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ پیدل تھے ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری کے لیے جانور مانگنے کے لیے حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم! آج میں تمہیں سواری کے لیے جانور نہیں دوں گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری کے لیے جانور نہیں دوں گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب ہم اپنی رہائشی جگہ پر واپس آ گئے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جب ہم اپنی رہائشی جگہ کی طرف واپس آنے لگے تو اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ اونٹ لائے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے سفید کوہان والے تین اونٹ ہماری طرف بھجوا دیئے ہم میں سے کسی ایک نے دوسرے سے کہا: کیا ہم اس پر سوار ہوں جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ قسم اٹھا چکے ہیں (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سواری کے لیے اونٹ نہیں دیں گے) تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو قسم اٹھائی ہوئی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم! میں نے تمہیں سواری کے لیے اونٹ نہیں دیئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں سواری کے لیے جانور دیئے ہیں روئے زمین پر میں جو بھی قسم اٹھاؤں اور پھر اس کے علاوہ صورت حال کو اس سے بہتر سمجھوں گا تو میں وہ کام کروں گا (جو زیادہ بہتر ہو) یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الأيمان / حدیث: 4354
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (7/ 166): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4339»