کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر اس بات کی مستحب ہونے کا کہ اگر انسان قسم کھائے تو وہ وہ کام کرے جو اس کے لیے قسم پر عمل کرنے سے بہتر ہو
حدیث نمبر: 4351
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : أَتَى أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحْمِلُهُ لِنَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لا أَحْمِلُهُمْ . فَأُتِيَ رَسُولَ اللَّهِ بِنَهْبٍ مِنْ إِِبِلٍ فَفَرَّقَهَا ، فَبَقِيَ مِنْهَا خَمْسُ عَشْرَةَ ، فَقَالَ : أَيْنَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ ؟ قَالَ : هُوَ ذَا هُوَ . فَقَالَ : خُذْ هَذِهِ فَاحْمِلْ عَلَيْهَا قَوْمَكَ . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّكَ كُنْتَ قَدْ حَلَفْتَ . قَالَ : " وَإِِنْ كُنْتُ حَلَفْتُ " .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ اپنی قوم سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کے لیے سواری کے جانور حاصل کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم! میں ان لوگوں کو سواری فراہم نہیں کروں گا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ اونٹ لائے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں الگ الگ کروایا ان میں سے پندرہ اونٹ باقی رہ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: عبداللہ بن قیس کہاں ہے؟ انہوں نے جواب دیا: وہ یہاں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم انہیں حاصل کر لو اور ان پر اپنی قوم کے افراد کو سوار کرواؤ۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے تو قسم اٹھائی تھی (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سواری کے لیے جانور نہیں دیں گے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ میں نے قسم اٹھائی تھی (لیکن تم پھر بھی اسے حاصل کر لو)
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الأيمان / حدیث: 4351
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح الإسناد. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4336»