کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر اس بات کی مستحب ہونے کا کہ اگر انسان قسم کھائے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کی قسم کھائے
حدیث نمبر: 4331
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ بِالصُّغْدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَخْفَى عَلَيَّ حِينَ تَكُونِينَ غَضْبَى وَحِينَ تَكُونِينَ رَاضِيَةً ، إِِذَا كُنْتِ غَضْبَى ، قُلْتِ : لا وَرَبِّ إِِبْرَاهِيمَ ، وَإِِذَا كُنْتِ رَاضِيَةً ، قُلْتُ : لا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ " . فَقُلْتُ : صَدَقْتَ ، إِِنَّمَا أَهْجُرُ اسْمَكَ . قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ لَوَ نَزَلْتَ وَادِيًا فِيهِ شَجَرٌ كَثِيرٌ قَدْ أُكِلَ مِنْهَا ، وَوَجَدْتَ شَجَرَةً لَمْ يُؤْكَلْ مِنْهَا ، فِي أَيِّهَا كُنْتَ تَرْتَعُ بَعِيرَكَ ؟ قَالَ : " فِي الَّذِي لَمْ يُرْتَعْ فِيهَا " . تُرِيدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَزَوَّجْ بِكْرًا غَيْرَهَا .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: یہ بات مجھ سے پوشیدہ نہیں رہتی جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو اور جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو، جب تم ناراض ہوتی ہو تو یہ کہتی ہو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پروردگار کی قسم اور جب تم راضی ہوتی ہو تو یہ کہتی ہو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار کی قسم، تو میں نے کہا: آپ نے سچ کہا: ہے لیکن میں تو صرف آپ کا نام لینا ترک کرتی ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایسی وادی میں پڑاؤ کرتے ہیں جہاں بہت سے درخت ہوتے ہیں جن سے کھایا گیا ہوتا ہے اور وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسا درخت ملتا ہے جس میں سے کچھ بھی نہ کھایا گیا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ کو کہاں چرائیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس درخت کے پاس جس میں سے کچھ نہ کھایا گیا ہو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد یہ تھی: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ اور کسی کنواری خاتون کے ساتھ شادی نہیں کی۔