کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: عدت کا بیان - خبر کہ بیوہ حاملہ عورت بچے کی پیدائش کے بعد چاہے مدت کم ہی کیوں نہ ہو نکاح کر سکتی ہے
حدیث نمبر: 4299
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ بن عبد الحميد ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي السَّنَابِلِ ، قَالَ : " وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِثَلاثَةٍ وَعِشْرِينَ أَوْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً ، فَلَمَّا وَضَعَتْ تَشَوَّفَتِ الأَزْوَاجَ ، فَعِيبَ ذَلِكَ عَلَيْهَا ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " وَمَا يَمْنَعُهَا وَقَدِ انْقَضَى أَجَلُهَا " .
ابوسنابل بیان کرتے ہیں: سیدہ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے انتقال کے تئیس یا شاید پچیس دن بعد بچے کو جنم دے دیا جب اس نے بچے کو جنم دے دیا تو شادی کرنے کے لیے آراستہ ہوئی اس پر اعتراض کیا گیا اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اب اس کے لیے کیا چیز رکاوٹ ہے جب کہ اس کی عدت ختم ہو چکی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطلاق / حدیث: 4299
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1996). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات رجال الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4285»