کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: عدت کا بیان - بیوہ عورت کو اسی گھر میں عدت گزارنے کا حکم جس میں شوہر کی وفات کی خبر ملی
حدیث نمبر: 4293
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمَّتَهُ زَيْنَبَ ، تُحَدِّثُ عَنْ فُرَيْعَةَ ، أَنَّ زَوْجَهَا كَانَ فِي قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الْمَدِينَةِ ، وَأَنَّهُ تَبَعَ أَعْلاجًا فَقَتَلُوهُ ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتِ الْوَحْشَةِ ، وَذَكَرَتْ أَنَّهَا فِي مَنْزِلٍ لَيْسَ لَهَا ، وَأَنَّهَا اسْتَأْذَنْتُهُ أَنْ تَأْتِيَ إِِخْوَتَهَا بِالْمَدِينَةِ ، فَأَذِنَ لَهَا ، ثُمَّ أَعَادَهَا ، ثُمَّ قَالَ لَهَا : " امْكُثِي فِي بَيْتِكِ الَّذِي جَاءَ فِيهِ نَعْيُهُ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ " .
سیده فریعہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ان کے شوہر ربیعہ منورہ کے کسی دیہات میں تھے وہ اپنے (کچھ مفرور) غلاموں کے پیچھے گئے ان غلاموں نے انہیں قتل کر دیا وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آبادی سے دور رہنے کی وجہ سے اپنی وحشت کا تذکرہ کیا اس خاتون نے یہ بات ذکر کی کہ وہ ایک ایسے گھر میں رہتی ہے جو اس کی ملکیت نہیں ہے۔ اس خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اجازت مانگی کہ وہ مدینہ منورہ میں اپنے بھائیوں کے ہاں آ جائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صورت حال دہرانے کے لیے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ارشاد فرمایا: تم اپنے اس گھر میں ٹھہری رہو جہاں اس کے انتقال کی اطلاع آئی تھی اس وقت تک جب تک تمہاری عدت پوری نہیں ہو جاتی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطلاق / حدیث: 4293
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4279»