کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: لعان کا بیان - اس بات کا بیان کہ اگر شوہر اور بیوی ہمارے بیان کردہ طریقے سے لعان کریں تو اس کے بعد اسے اس پر کوئی راستہ نہیں
حدیث نمبر: 4287
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلاعِنَيْنِ : " حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ ، أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ لا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا " قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَالِي ؟ قَالَ : " لا مَالَ لَكَ ، إِِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ مَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا ، وَإِِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی سے یہ فرمایا: تم دونوں کا حساب اللہ کے ذمے ہے تم دونوں میں سے کوئی ایک جھوٹا ہے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد سے فرمایا) تمہارا اس عورت کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے مال (کا کیا بنے گا، جو میں نے اسے مہر کے طور پر دیا تھا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں مال نہیں ملے گا اگر تم نے اس پر سچا الزام لگایا ہے، تو تم نے اس مال کے عوض میں اس عورت کی شرم گاہ کو اپنے لیے حلال کر لیا اور اگر تم نے اس پر جھوٹا الزام لگایا ہے، تو پھر تو یہ اور زیادہ دور ہو جائے گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطلاق / حدیث: 4287
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1953): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4273»