کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رجوع کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ آدمی کی اپنی بیوی کو طلاق دینا جب تک وہ تین طلاق کی صراحت نہ کرے، اس کی نیت کے مطابق حکم ہوتا ہے
حدیث نمبر: 4274
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا أَرَدْتَ بِهَا ؟ " قَالَ : وَاحِدَةً . قَالَ : آللَّهِ ، قَالَ : آللَّهِ ، قَالَ : " هِيَ عَلَى مَا أَرَدْتَ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ هَذَا : هُوَ الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أُمُّهُ : حَمَادَةُ بِنْتُ يَعْقُوبَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، مَاتَ فِي وِلايَةِ أَبِي جَعْفَرٍ .
عبداللہ بن علی اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے اپنی اہلیہ کو طلاق بتہ دے دی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم نے اس کے ذریعے کیا مراد لی تھی انہوں نے جواب دیا: ایک (طلاق) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا اللہ کی قسم! (ایسا ہی ہے) انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! (ایسا ہی ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس کے مطابق شمار ہو گی جو تم نے ارادہ کیا تھا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) زبیر بن سعید نامی راوی زبیر بن سعید بن سلیمان بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب ہیں ان کی والدہ حمادہ بنت یعقوب بن سعید بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب ہیں ان کا انتقال خلیفہ ابوجعفر کے عہد خلافت میں ہوا تھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطلاق / حدیث: 4274
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «الإرواء» (2063)، «ضعيف أبي داود» (382). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4260»