کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - اس بات کا بیان کہ بریرہ کا شوہر غلام تھا، آزاد نہیں، اور اسود کا یہ کہنا کہ وہ آزاد تھا، وهم ہے
حدیث نمبر: 4272
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَاتَبَتْ بَرِيرَةَ عَلَى نَفْسِهَا بِتِسْعَةِ أَوَاقٍ فِي كُلِّ سَنَةٍ أُوقِيَّةً ، فَأَتَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا ، فَقَالَتْ : لا ، إِِلا أَنْ يَشَاءُوا أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً ، وَيَكُونَ الْوَلاءُ لِي . فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ ، فَكَلَّمَتْ بِذَلِكَ أَهْلَهَا فَأَبَوْا عَلَيْهَا إِِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لَهُمْ ، فَجَاءَتْ إِِلَى عَائِشَةَ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ ، فَقَالَتْ لَهَا مَا قَالَ أَهْلُهَا ، فَقَالَتْ : لا هَاللَّهِ إِِذًا إِِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا هَذَا ؟ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِِنَّ بَرِيرَةَ أَتَتْنِي تَسْتَعِينُنِي عَلَى كِتَابَتِهَا ، فَقُلْتُ : لا ، إِِلا أَنْ يَشَاءُوا أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً ، وَيَكُونَ الْوَلاءُ لِي ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لأَهْلِهَا فَأَبَوْا عَلَيْهَا ، إِِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لَهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ابْتَاعِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلاءَ وَأَعْتِقِيهَا ، فَإِِنَّ الْوَلاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ . ثُمَّ قَامَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، يَقُولُونَ : أَعْتِقْ يَا فُلانُ وَالْوَلاءُ لِي ، كِتَابُ اللَّهِ أَحَقُّ ، وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ ، كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ ، وَإِِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ " . " فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوْجَهَا ، وَكَانَ عَبْدًا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا " . قَالَ عُرْوَةُ : فَلَوْ كَانَ حُرًّا مَا خَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں بریرہ نے اپنی ذات کے بارے میں نو اوقیہ کے عوض میں کتابت کا معاہدہ کر لیا جس میں ہر سال ایک اوقیہ کی ادائیگی کرنی تھی وہ مدد حاصل کرنے کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جی نہیں اگر وہ لوگ چاہیں، تو میں انہیں ایک ساتھ ساری ادائیگی کر دیتی ہوں اور ولاء کا حق مجھے حاصل ہو گا۔ بریرہ گئی اس نے اس بارے میں اپنے مالکان سے بات چیت کی تو انہوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا وہ اس بات کے خواہشمند تھے کہ ولاء کا حق انہیں حاصل رہے۔ بریرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں تشریف لے آئے۔ بریرہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا جو اس کے مالکان نے کہا: تھا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے فرمایا: جی نہیں اللہ کی قسم! یہ اسی صورت میں ہو گا، جب ولاء کا حق مجھے حاصل ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا معاملہ ہے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! بریرہ میرے پاس مدد حاصل کرنے کے لیے آئی جو اس کی کتابت کے معاوضے کی ادائیگی کے سلسے میں تھی تو میں نے کہا: جی نہیں اگر وہ لوگ چاہیں تو ان کو ایک ساتھ ادائیگی کر دیتی ہوں اور ولاء کا حق مجھے حاصل ہو گا اس نے اس بات کا تذکرہ اپنے مالکان سے کیا تو انہوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا وہ مصر تھے کہ ولاء کا حق ان کے پاس رہے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے خرید لو اور لاء کی شرط ان کے لیے رہنے دو اور پھر تم اسے آزاد کر دو ولاء کا حق اسے حاصل ہوتا ہے جو آزاد کرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے وہ ایسی شرائط عائد کرتے ہیں، جن کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہیں ہے لوگ یہ کہتے ہیں تم فلاں کو آزاد کر دو اور ولاء کا حق مجھے حاصل ہو گا حالانکہ اللہ کی کتاب اس کی زیادہ حقدار ہے اور اللہ تعالیٰ کی شرط زیادہ مضبوط ہوتی ہے ہر وہ شرط جس کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہ ہو وہ باطل شمار ہو گی اگرچہ وہ ایک سو شرطیں ہوں۔ (راوی بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو اس کے شوہر کے حوالے سے اختیار دیا وہ شوہر ایک غلام شخص تھے اس عورت نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا۔ عروہ کہتے ہیں اگر ان کا شوہر آزاد شخص ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اس کے شوہر کے حوالے سے اسے اختیار نہ دیتے۔