کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس بات کا بیان کہ اگر باندی آزاد ہو جائے اور غلام کے نکاح میں ہو تو اسے جدائی یا ساتھ رہنے کا اختیار ہے
حدیث نمبر: 4271
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النِّيلِيُّ إِِمْلاءً مِنْ كِتَابِهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا اشْتَرَتْ بَرِيرَةَ وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلاءَهَا ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْتِقِيهَا ، فَإِِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ ، وَوَلِيَ النِّعْمَةَ " . قَالَتْ : فَأَعْتَقْتُهَا ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : لَوْ أُعْطِيتُ كَذَا وَكَذَا مَا كُنْتُ مَعَهُ . قَالَ الأَسْوَدُ : وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے بریرہ کو خرید لیا اس کے مالکان نے یہ شرط عائد کی کہ اس کی ولاء کا حق انہیں حاصل ہو گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) فرمایا تم اسے آزاد کر دو، کیونکہ ولاء کا حق اسے ملتا ہے جو قیمت ادا کرتا ہے اور نعمت کا ولی بنتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، تو میں نے اسے آزاد کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا تو اس نے کہا: اگر مجھے اتنا اتنا مال بھی دیا جائے تو میں (اپنے شوہر) کے ساتھ نہیں رہوں گی۔ اسونامی راوی کہتے ہیں: اس کا شوہر ایک آزاد شخص تھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطلاق / حدیث: 4271
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح دون قوله: وكان زوجها حرًّا، والصواب: أنه كان عبداً؛ كما في الحديث الثاني. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4257»