کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - اس بات کا بیان کہ اگر زوجہ باندی آزاد ہو جائے تو اسے اختیار ہے کہ وہ اپنے غلام شوہر کے ساتھ رہے یا اس سے جدا ہو
حدیث نمبر: 4269
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَيَحْيَى بْنُ طَلْحَةَ الْيَرْبُوعِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلاثُ قَضِيَّاتٍ أَرَادَ أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا وَيَشْتَرِطُوا الْوَلاءَ ، فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم ، فقال : " اشتريها وأعتقيها ، فَإِِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " . وَعَتَقَتْ ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا ، وَكَانَتْ يُتَصَدَّقُ عَلَيْهَا فَتُهْدِي لَنَا مِنْهُ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " كُلُوا فَإِِنَّهُ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ ، وَهُوَ لَكُمْ هَدِيَّةٌ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بریرہ کے معاملے میں تین فیصلے سامنے آئے اس کے مالکان نے اسے فروخت کرنے کا ارادہ کیا اور اس کے ولاء کی شرط عائد کی میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے خرید کر آزاد کر دو، کیونکہ ولاء کا حق اسے حاصل ہوتا ہے جو آزاد کرتا ہے پھر بریرہ آزاد ہو گئی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امام نے اسے یہ اختیار دیا (کہ وہ اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کر سکتی ہے) تو اس نے اپنی ذات کو اختیار کیا (تیسری بات یہ ہے) بریرہ کو کوئی چیز صدقہ دی جاتی تھی، تو وہ اس میں کوئی چیز ہمیں تحفے کے طور پر دے دیتی تھی میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اسے کھا لو کیونکہ یہ چیز اس کے لیے صدقہ ہے اور یہ تمہارے لیے تحفہ ہے۔