کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ طلاق میں کنایات اگر طلاق کا ارادہ کیا جائے تو آدمی کی نیت کے مطابق طلاق ہوتی ہے
حدیث نمبر: 4266
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ : أَيُّ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ ؟ قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ بِنْتَ الْجَوْنِ لَمَّا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَنَا مِنْهَا ، قَالَتْ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عُذْتِ بِعَظِيمٍ ، الْحَقِي بِأَهْلِكِ " . قَالَ الزُّهْرِيُّ : الْحَقِي بِأَهْلِكِ : تَطْلِيقَةٌ .
امام اوزاعی بیان کرتے ہیں: میں نے زہری سے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ کون سی زوجہ محترمہ تھیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پناہ مانگی تھی، تو زہری نے بتایا: عروہ بن زبیر نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کیا ہے جو ان کی صاحبزادی کے پاس جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب ہوئے (تو وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتی نہیں تھی) اس نے کہا: میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ایک عظیم ذات کی پناہ مانگی ہے تم اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلی جاؤ۔ امام زہری بیان کرتے ہیں: تم اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلی جاؤ اس سے مراد ایک طلاق تھی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الطلاق / حدیث: 4266
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2064): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4252»