کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: بیویوں کے درمیان باری کے بیان کا باب - اس بات کا بیان کہ اگر آدمی کے نیچے کئی عورتیں ہوں اور ایک نے اپنا دن اپنی سہیلی کو دیا تو اسے اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کے لیے ہو نہ کہ اس کے لیے
حدیث نمبر: 4211
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ امْرَأَةً أَحَبَّ إِِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ فِي مِسْلاخِهَا مِنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ ، مِنِ امْرَأَةٍ فِيهَا حِدَةٌ ، فَلَمَّا كَبِرَتْ جَعَلَتْ يَوْمَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ جَعَلْتُ يَوْمِي مِنْكَ لِعَائِشَةَ . قَالَتْ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْسِمُ لِعَائِشَةَ يَوْمَيْنِ يَوْمَهَا ، وَيَوْمَ سَوْدَةَ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے) میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا تھیں وہ ایک ایسی خاتون تھیں جن کے مزاج میں تیزی تھی جب ان کی عمر زیادہ ہو گئی تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اپنی باری کا مخصوص دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اپنا مخصوص دن عائشہ کو دیتی ہوں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دو دن دیا کرتے تھے ایک ان کا مخصوص دن اور ایک سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا (کا مخصوص) دن۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب النكاح / حدیث: 4211
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2020): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4198»