کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: بیویوں کے درمیان باری کے بیان کا باب - اس بات کی اطلاع کہ کنواری یا ثیب پر شادی کرنے والے پر کیا واجب ہے جب اس کے نیچے اس جیسی یا اس سے زیادہ عورتیں ہوں
حدیث نمبر: 4210
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَهَا أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلاثًا ، وَقَالَ : " لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ ، إِِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ ، فَإِِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ هَذَا هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ الأَنْصَارِيُّ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ هُوَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ الْقُرَشِيُّ ، جَمِيعًا مَدَنِيَّانِ .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ شادی کی تو ان کے ہاں تین دن قیام کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے شوہر کے نزدیک بے حیثیت نہیں ہو اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن رہتا ہوں، لیکن اگر میں تمہارے پاس سات دن رہا تو دیگر ازواج کے پاس بھی سات، سات دن رہوں گا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) محمد بن ابوبکر نامی راوی، محمد بن ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم انصاری ہیں اور عبدالملک بن ابوبکر نامی راوی عبدالملک بن ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام قریشی ہیں اور یہ دونوں مدنی ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب النكاح / حدیث: 4210
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1846). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4197»