کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: بیویوں کے درمیان باری کے بیان کا باب - اس بات کی صفت کا ذکر کہ دنیا میں اپنی دو بیویوں کے درمیان عدل نہ کرنے والے کی سزا کیا ہوتی ہے
حدیث نمبر: 4207
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ ، فَمَالَ مَعَ إِِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى ، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَحَدُ شِقَّيْهِ سَاقِطٌ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کو چھوڑ کر دوسری کی طرف مائل ہو تو وہ قیامت کے دن ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو ساقط (مفلوج) ہو گا۔