کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: بیویوں کے درمیان باری کے بیان کا باب - اس بات کا بیان کہ اگر آدمی ہمارے بیان کردہ نعت پر ہو تو وہ ایک بیوی سے اس کے دن میں دوسری کے لیے اجازت مانگے
حدیث نمبر: 4206
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ زِيَادٍ الطَّسْتِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَسْتَأْذِنُنَا فِي يَوْمِ الْمَرْأَةِ مِنَّا بَعْدَمَا أُنْزِلَتْ : تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ سورة الأحزاب آية 51 " . قَالَتْ مُعَاذَةُ : فَمَا تَقُولِينَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِذَا اسْتَأْذَنَكِ ؟ قَالَتْ : أَقُولُ : إِِنْ كَانَ ذَاكَ إِِلَيَّ لَمْ أُوثِرْ أَحَدًا عَلَى نَفْسِي .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اس آیت کے نازل ہونے کے بعد۔ ” تم ان میں سے جسے چاہو پیچھے کر دو، اور جسے چاہو اپنے قریب کر لو۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس خاتون کے دن کے بارے میں ہم سے اجازت لیا کرتے تھے۔ (جس خاتون کی باری ہوتی تھی) معاذه نامی راوی خاتون نے (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) دریافت کیا۔ پھر آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا کہتی تھیں۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے اجازت طلب کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: میں یہ کہتی تھی اگر یہ میرے اختیار میں ہو تو میں کسی دوسرے کے لیے ایثار نہیں کرتی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب النكاح / حدیث: 4206
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1853): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4193»