کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: بیویوں کے درمیان باری کے بیان کا باب - اس بات کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے درمیان قسم میں عدل کرتے تھے
حدیث نمبر: 4205
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ فَيَعْدِلُ ، ثُمَّ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ هَذَا فِعْلِي فِيمَا أَمْلِكُ ، فَلا تَلُمْنِي فِيمَا لا أَمْلِكُ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کے درمیان (دنوں کے اعتبار سے وقت کی) تقسیم کرتے تھے اور پھر یہ فرماتے تھے: اے اللہ! یہ میرا وہ فعل ہے جس کا میں مالک ہوں تو مجھے اس چیز کے حوالے سے ملامت نہ کرنا جس کا میں مالک نہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب النكاح / حدیث: 4205
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «ضعيف أبي داود» (370)، «الإرواء» (2018)، «التعليق الرغيب» (3/ 79). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4192»