کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: غیلہ کے بیان کا باب - اس بات کی اطلاع کہ عورت کا دودھ پلانا اور اس کے شوہر کا اس سے اس حالت میں وطی کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 4196
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، عَنْ جُذَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الأَسَدِيَّةِ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّ الرُّومَ ، وَفَارِسَ يَصْنَعُونَ ذَلِكَ ، فَلا يَضُرُّ أَوْلادَهُمْ " ، قَالَ مَالِكٌ : وَالْغِيلَةُ : أَنْ يَمَسَّ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تُرْضِعُ .
سیدہ جذامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” پہلے میں نے اس بات کا ارادہ کیا کہ میں دودھ پلانے والی عورت کے ساتھ صحبت کرنے سے منع کر دوں پھر مجھے خیال آیا کہ اہل روم اور اہل فارس بھی ایسا کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ “ امام مالک بیان کرتے ہیں: غیلہ سے مراد یہ ہے: کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ ایسی حالت میں صحبت کرے، جب وہ عورت دودھ پلا رہی ہو۔