کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: میاں بیوی کی باہمی معاشرت کا بیان - اس بات کی اجازت کہ آدمی اپنی بیوی سے اپنے داماد کے لیے معافی مانگے اگر اسے اس کے کچھ اختلاف سے نفرت ہو
حدیث نمبر: 4185
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْذَرَ أَبَا بَكْرٍ عَنْ عَائِشَةَ ، وَلَمْ يَظُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنَالَهَا بِالَّذِي نَالَهَا ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَهُ فَلَطَمَهَا ، وَصَكَّ فِي صَدْرِهَا فَوَجَدَ مِنْ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ، مَا أَنَا بِمُسْتَعْذِرِكَ مِنْهَا بَعْدَهَا أَبَدًا " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شکایت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس پر اتنا سخت) ردعمل ظاہر کریں گے جو انہوں نے ظاہر کیا (یہ شکایت سن کر) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو طمانچہ لگا دیا اور ان کے سینے پر (ہاتھ مار کر) دھکا بھی دیا اس بات پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو افسوس ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر آج کے بعد میں کبھی تمہیں (عائشہ کی) شکایت نہیں لگاؤں گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب النكاح / حدیث: 4185
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2900). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4173»