کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: میاں بیوی کی باہمی معاشرت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ مرد کے لیے مستحب ہے کہ نبیِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرے اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ سلوک کرے، کیونکہ بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنے اہل کے لیے بہتر ہوں۔
حدیث نمبر: 4177
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَيَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ ، قَالا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُكُمْ خَيْرَكُمْ لأَهْلِهِ ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لأَهْلِي ، وَإِذَا مَاتَ صَاحِبُكُمْ فَدَعُوهُ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَدَعُوهُ " يَعْنِي : لا تَذْكُرُوهُ إِلا بِخَيْرٍ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” تم میں زیادہ بہتر وہ شخص ہے جو اپنی بیوی کے حق میں زیادہ بہتر ہو میں اپنی بیوی کے بارے میں تم سب سے زیادہ بہتر ہوں اور جب تمہارا کوئی ساتھی فوت ہو جائے تو تم اسے (اس کے حال پر) چھوڑ دو (یعنی اس کی برائیاں بیان نہ کرو۔) “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں): نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” تم اسے چھوڑ دو “ اس سے مراد یہ ہے: اس کا ذکر صرف بھلائی کے حوالے سے کرو۔