کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: میاں بیوی کی باہمی معاشرت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اللہ جل وعلا نے مسلمان کے اپنی بیوی سے تعلق قائم کرنے پر بھی صدقہ لکھا ہے۔
حدیث نمبر: 4167
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ أَيَأْتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكُونُ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ ؟ ، فَقَالَ : " أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي الْحَرَامِ أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهِ وِزْرٌ ، فَكَذَلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلالِ كَانَ لَهُ أَجْرٌ " ، هَذَا خَبَرٌ أَصْلٌ فِي الْمُقَايَسَاتِ فِي الدِّينِ ، قَالَهُ الشَّيْخُ .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں: ” آدمی کے صحبت کرنے سے بھی صدقے کا ثواب ملتا ہے لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم میں سے کوئی شخص اپنی خواہش پوری کرتا ہے تو کیا اس کو اس میں بھی اجر ملے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے اگر وہ اسے ناجائز طریقے سے پورا کرتا تو اسے اس کا گناہ ہوتا؟ اسی طرح اگر وہ اسے جائز طریقے سے پورا کرے گا تو اسے اس کا اجر ملے گا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) دینی معاملات میں قیاس کرنے کے جائز ہونے کے بارے میں یہ روایت اصول کی حیثیت رکھتی ہے یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب النكاح / حدیث: 4167
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (454)، «غاية المرام» (25 - 26): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4155»