کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: کفار سے نکاح کا بیان -
حدیث نمبر: 4155
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَسْلَمْتُ وَعِنْدِي أُخْتَانِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " طَلِّقْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ " .
ضحاک بن فیروز اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جب میں نے اسلام قبول کیا اس وقت دو بہنیں میرے نکاح میں تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم ان دونوں میں سے جسے چاہو طلاق دے دو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب النكاح / حدیث: 4155
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «صحيح أبي داود» (1940). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4143»
حدیث نمبر: 4156
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ غَيْلانَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ وَتَحْتَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا " ، فَلَمَّا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ طَلَّقَ نِسَاءَهُ ، وَقَسَّمَ مَالَهُ بَيْنَ بَنِيهِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ ، فَلَقِيَهُ ، فَقَالَ : إِنِّي أَظُنُّ الشَّيْطَانَ فِيمَا يَسْتَرِقُ مِنَ السَّمَعِ سَمِعَ بِمَوْتِكَ ، فَقَذَفَهُ فِي نَفْسِكَ ، وَلَعَلَّكَ أَنْ لا تَمْكُثَ إِلا قَلِيلا ، وَايْمُ اللَّهِ لَتَرُدَّنَّ نِسَاءَكَ ، وَلَتَرْجِعَنَّ فِي مَالِكِ ، أَوْ لأُوَرِّثُهُنَّ مِنْكَ ، وَلآمُرَنَّ بِقَبْرِكَ ، فَيُرْجَمُ كَمَا رُجِمَ قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ .
سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو ان کی دس ہیویاں تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ان میں سے چار کو اختیار کر لو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا عہد حکومت آیا تو انہوں نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی اور اپنا مال اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کر دیا جب اس بات کی اطلاع سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ملی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان سے ملے اور بولے: میرا یہ خیال ہے شیطان چوری چھپے جو باتیں سنتا ہے ان میں سے اس نے تمہاری موت کی بات بھی سن لی ہے اور یہ چیز تمہارے ذہن میں ڈال دی ہے ہو سکتا ہے اب تم تھوڑا عرصہ زندہ رہو اللہ کی قسم! یا تو تم اپنی بیویوں سے رجوع کر لو اور اپنا مال واپس لے لو یا میں ان خواتین کو تمہارا وارث قرار دوں گا اور تمہاری قبر کے بارے میں حکم جاری کروں گا اور اسے یوں سنگسار کیا جائے گا، جس طرح ابورغال کی قبر کو سنگسار کیا گیا تھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب النكاح / حدیث: 4156
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1883). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4144»