کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نکاحِ متعہ کا بیان - ذكر البيان بأن الزجر عن المتعة يوم الفتح كان زجر تحريم لا زجر ندب
حدیث نمبر: 4148
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَخَرَجْتُ أَنَا ، وَرَجُلٌ مِنْ قَوْمِي لِي عَلَيْهِ فَضْلٌ فِي الْجَمَالِ ، وَهُوَ قَرِيبٌ مِنَ الدَّمَامَةِ ، مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا بُرْدٌ ، أَمَا بُرْدِي ، فَبُرْدٌ خَلَقٌ ، وَأَمَّا بُرْدُ ابْنِ عَمِّي ، فَبُرْدٌ جَدِيدٌ غَضٌّ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا أَسْفَلَ مَكَّةَ أَوْ بِأَعْلاهَا ، فَلَقَيْنَا فَتَاةً مِثْلُ الْبَكْرَةِ ، فَقُلْنَا لَهَا : هَلْ نَسْتَمْتِعُ مِنْكِ ؟ قَالَتْ : وَمَاذَا تَبْذُلانِ ، فَنَشَرَ كُلُّ وَاحِدٍ بُرْدَهُ ، فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى الرَّجُلِ ، فَإِذَا رَآهَا الرَّجُلُ تَنْظُرُ إِلَى ، عِطْفِهَا ، وقَالَ : بُرْدُ هَذَا خَلَقٌ ، وَبُرْدِي جَدِيدٌ غَضٌّ ، فَتَقُولُ : بُرْدُ هَذَا لا بَأْسَ بِهِ ، ثُمَّ اسْتَمْتَعْتُ مَعَهَا ، فَلَمْ نَخْرُجْ حَتَّى حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ربیع بن سبرہ بیان کرتے ہیں: ان کے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شرکت کی وہ بیان کرتے ہیں: میں اور میری قوم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نکلے خوبصورتی کے اعتبار سے مجھے اس پر فضیلت حاصل تھی اور وہ شخص بدصورت ہونے کے قریب تھا ہم میں سے ہر ایک کے پاس چادر موجود تھی جہاں تک میری چادر کا تعلق تھا تو وہ پرانی تھی اور جہاں تک میرے چچازاد کی چادر کا تعلق تھا وہ بالکل نئی چادر تھی، یہاں تک کہ ہم مکہ کے زیریں علاقے میں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) بالائی علاقے میں آئے ہماری ملاقات ایک نوجوان عورت سے ہوئی جو کنواری محسوس ہوتی تھی ہم نے کہا: کیا ہم تمہارے ساتھ نکاح متعہ کر سکتے ہیں؟ اس نے جواب دیا: تم کیا خرچ کرو گے (یعنی کیا مہر دو گے) تو ہم میں سے ہر ایک نے اپنی چادر کو پھیلا دیا اس عورت نے اس دوسرے شخص کی طرف دیکھا (جو بدصورت تھا) پھر جب اس مرد نے یہ دیکھا کہ وہ عورت میری طرف دلچسپی کے ساتھ دیکھ رہی ہے تو وہ بولا: اس کی چادر تو پرانی ہے میری چادر بالکل نئی ہے اس عورت نے کہا: اس چادر میں بھی کوئی حرج نہیں ہے میں نے اس کے ساتھ نکاح متعہ کر لیا، پھر میں اس عورت سے اس وقت الگ ہوا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (یعنی نکاح متعہ کو) حرام قرار دے دیا تھا۔