کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نکاحِ متعہ کا بیان - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم حرم المتعة عام حجة الوداع تحريم الأبد إلى يوم القيامة
حدیث نمبر: 4147
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا قَضَيْنَا عُمْرَتَنَا ، قَالَ لَنَا : " اسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ " ، قَالَ : وَالاسْتِمْتَاعُ عِنْدَنَا يَوْمَئِذٍ التَّزْوِيجُ ، فَعَرَضْنَا بِذَلِكَ النِّسَاءُ أَنْ نَضْرِبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُنَّ أَجَلا ، قَالَ : فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " افْعَلُوا ذَلِكَ " ، فَخَرَجْتُ أَنَا ، وَابْنُ عَمٍّ لِي مَعِي بُرْدَةٌ ، وَمَعَهُ بُرْدَةٌ ، وَبُرْدُهُ أَجْوَدُ مِنْ بُرْدِي ، وَأَنَا أَشَبُّ مِنْهُ ، فَأَتَيْنَا امْرَأَةً فَعَرَضْنَا ذَلِكَ عَلَيْهَا ، فَأَعْجَبَهَا شَبَابِي ، وَأَعْجَبَهَا بُرْدُ ابْنِ عَمِّي ، فَقَالَتْ : بُرْدٌ كَبُرْدٍ ، فَتَزَوَّجْتُهَا ، وَكَانَ الأَجَلُ بَيْنِي وَبَيْنَهَا عَشْرًا ، فَلَبِثْتُ عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ ، ثُمَّ أَصْبَحْتُ غَادِيًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْحَجَرِ وَالْبَابِ قَائِمٌ يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ يَقُولُ : " أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الاسْتِمْتَاعِ فِي هَذِهِ النِّسَاءِ ، أَلا وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ ذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْئًا فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهُ ، وَلا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا " .
ربیع بن سبرہ جہنی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں روانہ ہوئے جب ہم نے عمرہ ادا کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم خواتین کے ساتھ نکاح متعہ کر لو۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہمارے نزدیک ان دنوں میں متعہ کرنا شادی کے مترادف تھا ہم نے خواتین کو اس کی پیشکش کی کہ ہم متعین مدت کے لیے ان کے ساتھ شادی کر لیتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ ایسا کر لو۔ میں اور میرا چچازاد بھائی نکلے میرے پاس بھی ایک چادر تھی اور اس کے پاس بھی ایک چادر تھی اس کی چادر میری چادر سے اچھی تھی اور میں اس کے مقابلے میں زیادہ نوجوان تھا ہم ایک عورت کے پاس آئے ہم نے اس عورت کو نکاح کی پیشکش کی اسے میری جوانی پسند آئی اور میرے چچازاد کی چادر پسند آئی وہ بولی: چادر تو چادر کی طرح ہوتی ہے تو میں نے اس عورت کے ساتھ شادی کر لی میرے اور اس عورت کے درمیان دس دن ساتھ رہنے کا معاہدہ ہوا تھا اس رات میں اس کے پاس رہا پھر اگلے دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود اور خانہ کعبہ کے درمیان کھڑے ہوئے لوگوں سے خطاب کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما رہے تھے۔ ” اے لوگو! میں نے تمہیں خواتین کے ساتھ نکاح متعہ کرنے کی اجازت دی تھی خبردار! بے شک اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت کے دن تک حرام قرار دے دیا ہے، تو جس شخص نے ایسا کوئی معاہدہ کیا ہو تو اسے ان عورتوں کو چھوڑ دینا چاہئے اور تم نے انہیں جو ادائیگی کی تھی اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لینا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب النكاح / حدیث: 4147
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (381)، «الإرواء» (6/ 314): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4135»