حدیث نمبر: 4140
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ السَّيَّارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، وَالْحَسَنَ ابني محمد بن علي أخبراه أَنَّ ، أَبَاهُمَا أَخْبَرَهُمَا ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ " .
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح متعہ کرنے سے منع کیا ہے۔
حدیث نمبر: 4141
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَنَا نِسَاءٌ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلا نَسْتَخْصِي ؟ ، فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَنْكِحَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ هَذِهِ الآيَةَ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ سورة المائدة آية 87 قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الْمُتْعَةَ كَانَتْ مَحْظُورَةً قَبْلَ أَنْ أُبِيحَ لَهُمُ الاسْتِمْتَاعُ قَوْلُهُمْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلا نَسْتَخْصِي عِنْدَ عَدَمِ النِّسَاءِ ، وَلَوْ لَمْ تَكُنْ مَحْظُورَةً لَمْ يَكُنْ لِسُؤَالِهِمْ عَنْ هَذَا مَعْنًى .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک جنگ میں شریک ہوئے ہمارے ساتھ خواتین نہیں تھیں لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہم خصی نہ ہو جائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم کسی کپڑے کے عوض میں کسی عورت کے ساتھ نکاح کر لیں۔ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی۔ ” اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے جو پاکیزہ چیزیں حلال قرار دی ہیں انہیں تم (اپنے لیے) حرام قرار نہ دو۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کی دلیل کہ نکاح متعہ ممنوع ہے حالانکہ پہلے لوگوں کے لیے نکاح متعہ کرنے کو مباح قرار دیا گیا تھا وہ دلیل یہ ہے: ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ عرض کی تھی جب کہ ان کے پاس خواتین نہیں تھیں کہ کیا ہم خصی نہ ہو جائیں اگر یہ نکاح متعہ پہلے ممنوع نہ ہوتا تو پھر ان لوگوں کے اس درخواست کرنے کا کوئی مفہوم نہ ہوتا۔