کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نکاح کی حرمت کا بیان - ذكر الخبر المصرح بنفي جواز نكاح المحرم وإنكاحه
حدیث نمبر: 4139
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ أَخِي بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، وَأَبَانُ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْحَاجِّ وَهُمَا مُحْرِمَانِ : قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَنْكِحَ طَلْحَةَ بْنَ عُمَرَ بِنْتَ شَيْبَةَ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَأَرَدْتُ أَنْ تَحْضُرَ ذَلِكَ ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَقَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ ، وَلا يَخْطُبُ ، وَلا يُنْكِحُ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَانِ خَبَرَانِ فِي نِكَاحِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ تَضَادَا فِي الظَّاهِرِ ، وَعَوَّلَ أَئِمَّتُنَا فِي الْفَصْلِ فِيهِمَا بِأَنْ قَالُوا : إِنَّ خَبَرَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، وَهُمْ كَذَلِكَ ، قَالَهُ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَخَبَرُ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ يُوَافِقُ خَبَرَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ فِي النَّهْيِ عَنْ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ وَإِنْكَاحِهِ ، وَهُوَ أَوْلَى بِالْقَبُولِ لِتَأْيِيدِ خَبَرِ عُثْمَانَ إِيَّاهُ ، وَالَّذِي عِنْدِي أَنَّ الْخَبَرَ إِذَا صَحَّ عَنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، غَيْرُ جَائِزٍ تَرْكُ اسْتِعْمَالِهِ ، إِلا أَنْ تَدُلَّ السُّنَّةُ عَلَى إِبَاحَةِ تَرَكِهِ ، فَإِنْ جَازَ لِقَائِلٍ أَنْ ، يَقُولُ : وَهِمَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، وَمَيْمُونَةُ خَالَتُهُ فِي الْخَبَرِ الَّذِي ذكرنَاهُ ، جَازَ لِقَائِلٍ آخَرَ أَنْ ، يَقُولَ : وَهِمَ يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ فِي خَبَرِهِ لأَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَحْفَظُ وَأَعْلَمُ وَأَفْقَهُ مِنْ مِائَتَيْنِ مِثْلِ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ، وَمَعْنَى خَبَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ عِنْدِي حَيْثُ ، قَالَ : تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، يُرِيدُ بِهِ وَهُوَ دَاخِلَ الْحَرَمِ ، لا أَنَّهُ كَانَ مُحْرِمًا ، كَمَا يُقَالُ لِلرَّجُلِ إِذَا دَخَلَ الظُّلْمَةَ : أَظْلَمَ ، وَأَنْجَدَ : إِذَا دَخَلَ نَجْدًا ، وَأَتْهَمَ إِذَا دَخَلَ تِهَامَةَ ، وَإِذَا دَخَلَ الْحَرَمَ : أَحْرَمَ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ بِنَفْسِهِ مُحْرِمًا ، وَذَلِكَ أَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَزَمَ عَلَى الْخُرُوجِ إِلَى مَكَّةَ فِي عَمْرَةِ الْقَضَاءِ ، فَلَمَّا عَزَمَ عَلَى ذَلِكَ بَعَثَ مِنَ الْمَدِينَةِ أَبَا رَافِعٍ ، وَرَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى مَكَّةَ لِيَخْطُبَا مَيْمُونَةَ لَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَحْرَمَ ، فَلَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ طَافَ ، وَسَعَى ، وَحَلَّ مِنْ عُمْرَتِهِ ، وَتَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ حَلالٌ بَعْدَمَا فَرَغَ مِنْ عُمْرَتِهِ ، وَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَلاثًا ، ثُمَّ سَأَلَهُ أَهْلُ مَكَّةَ الْخُرُوجَ مِنْهَا ، فَخَرَجَ مِنْهَا ، فَلَمَّا بَلَغَ سَرِفَ بَنَى بِهَا بِسَرِفَ وَهُمَا حَلالانِ ، فَحَكَى ابْنُ عَبَّاسٍ نَفْسَ الْعَقْدِ الَّذِي كَانَ بِمَكَّةَ ، وَهُوَ دَاخِلَ الْحَرَمِ بِلَفْظِ الْحَرَامِ ، وَحَكَى يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ الْقِصَّةَ عَلَى وَجْهِهَا ، وَأَخْبَرَ أَبُو رَافِعٍ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَزَوَّجَهَا وَهُمَا حَلالانِ ، وَكَانَ الرَّسُولُ بَيْنَهُمَا ، وَكَذَلِكَ حَكَتْ مَيْمُونَةُ عَنْ نَفْسِهَا ، فَدَلَّتْكَ هَذِهِ الأَشْيَاءُ مَعَ زَجْرِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِكَاحِ الْمُحْرِمِ وَإِنْكَاحِهِ عَلَى صِحَّةِ مَا أَصَّلْنَا ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَخْبَارَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَتَضَادُ وَتَتَهَاتَرُ حَيْثُ عَوَّلَ عَلَى الرَّأْيِ الْمَنْحُوسِ ، وَالْقِيَاسِ الْمَعْكُوسِ .
نبیہ بن وہب بیان کرتے ہیں: عمر بن عبیداللہ نے ابان بن عثمان کو پیغام بھجوایا ابان ان دنوں امیر حج تھے یہ دونوں حضرات حالت احرام میں تھے (پیغام یہ تھا) میں طلحہ بن عمر کی شادی شیبہ بن جبیر کی صاحب زادی کے ساتھ کروانے لگا ہوں میں یہ چاہتا ہوں آپ بھی اس موقع پر شریک ہوں تو ابان نے اس کا انکار کیا اور یہ بات بیان کی میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” احرام والا شخص خود نکاح نہیں کر سکتا، نکاح کا پیغام نہیں بھیج سکتا اور کسی دوسرے کا نکاح نہیں کروا سکتا۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ دونوں روایات جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کرنے کے بارے میں ہیں یہ بظاہر ایک دوسرے کی متضاد ہیں اس مسئلے کے بارے میں ہمارے ائمہ کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے وہ یہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات منقول ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حالت احرام میں تھے اور صورت حال ایسی ہی تھی یہ بات سعید بن مسیب نے بیان کی ہے۔ یزید بن اصم کی نقل کردہ روایت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت کی موافق ہے جو احرام والے شخص کے نکاح کرنے اور اس کے نکاح کروانے کی ممانعت کے بارے میں ہے اور وہ قبول کرنے کے زیادہ لائق ہے کیونکہ اس کی تائید میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت موجود ہے۔ میرے نزدیک (اصول یہ ہے) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مستند طور پر کوئی روایت ثابت ہو جائے تو اب یہ بات جائز نہیں ہو گی کہ اس پر عمل کو ترک کیا جائے ماسوائے اس صورت کے کہ سنت اس کے ترک کے مباح ہونے پر دلالت کرے۔ اگر کسی کہنے والے کے لیے یہ بات کہنا جائز ہو تو وہ یہ کہہ دے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اس روایت کو نقل کرنے میں وہم ہوا ہے جسے ہم نے ذکر کیا ہے حالانکہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خالہ ہیں، تو کسی دوسرے شخص کے لیے یہ کہنا بھی جائز ہو گا کہ اس روایت کو نقل کرنے میں یزید بن اصم نامی راوی کو وہم ہوا ہو گا، کیونکہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یزید بن اصم جیسے دو سو افراد سے زیادہ بڑے حافظ حدیث زیادہ بڑے عالم اور زیادہ بڑے فقیہہ ہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) میرے نزدیک سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی نقل کردہ روایت کا مفہوم یہ ہے: انہوں نے یہ کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ اس وقت شادی کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں تھے اس کے ذریعے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی مراد یہ ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حرم کی حدود میں تھے اس سے یہ مراد نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھے ہوئے تھے یہ بالکل اسی طرح ہو گا جیسے کوئی شخص تاریکی میں داخل ہو تو یہ کہا: جاتا ہے: وہ تاریک ہو گیا یا جب کوئی شخص نجد میں داخل ہو تو یہ کہا: جاتا ہے: وہ نجدی ہو گیا یا جب کوئی شخص حرم میں داخل ہو تو یہ کہا: جاتا ہے: وہ احرام والا ہو گیا حالانکہ اس شخص نے اس وقت احرام نہ باندھا ہوا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ قضاء کے موقع پر مکہ کی طرف روانہ ہونے کا ارادہ کیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا پختہ ارادہ کر لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ سے سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ اور انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو مکہ کی طرف بھیجا تاکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیلے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام دیں پھر بی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھ لیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کیا سعی کی اور عمرہ کر کے احرام کھول دیا اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنا کے ساتھ شادی کی جب کہ آپ حالت احرام میں نہیں تھے اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد کی بات ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن مکہ میں قیام کیا پھر اہل مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے تشریف لے جائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے تشریف لے گئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ” سرف“ کے مقام پر پہنچے تو وہاں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا حالت احرام کے بغیر تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے عقد نکاح کا تذکرہ کیا ہے یہ مکہ میں ہوا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حرم کی حدود میں شامل تھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کے لیے یہ لفظ استعمال کیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرمت والی حالت میں تھے۔ جبکہ یزید بن اصم نے اس واقعہ کو اصل شکل میں نقل کر دیا سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے یہ روایت بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی اس وقت سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں حالت احرام کے بغیر تھے اور وہ ان دونوں کے درمیان پیغام رسانی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے اور اسی طرح کی بات سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ذات کے بارے میں نقل کی ہے تو یہ تمام چیزیں اور ان کے ہمراہ احرام والے شخص سے نکاح کرنے یا کسی کا نکاح کروانے کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت (یہ سب مل کے) تمہاری رہنمائی اس چیز کی طرف کریں گے کہ ہم نے جو اصول بیان کیا ہے وہ درست ہے اور یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے جو اس بات کا قائل ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول روایات میں تضاد اور اختلاف پایا جاتا ہے اور وه شخص منحوس رائے اور الٹے قیاس کی پیروی کرتا ہے۔