کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نکاح کی حرمت کا بیان - اس بات کا بیان کہ یہ زجر حتمی ہے، نہ کہ استحبابی
حدیث نمبر: 4121
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ رِفَاعَةَ بْنَ سَمَوْءَلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَمِيمَةَ بِنْتَ وَهْبٍ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثًا ، فَنَكَحَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزُّبَيْرِ ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَمَسَّهَا ، فَفَارَقَهَا ، فَأَرَادَ رِفَاعَةُ أَنْ يَنْكِحَهَا ، وَهُوَ زَوْجُهَا الأَوَّلُ الَّذِي كَانَ طَلَّقَهَا ، فَذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَهَاهُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا ، وَقَالَ : " لا تَحِلُّ لَكَ حَتَّى تَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ " .
زبیر بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: سیدنا رفاعہ بن سموال رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ تمیمہ بنت وہب کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں تین طلاق دے دیں، تو عبدالرحمن بن زبیر نے اس خاتون کے ساتھ شادی کر لی لیکن وہ ان کے ساتھ صحبت نہیں کر سکے تو انہوں نے اس عورت کے ساتھ علیحدگی اختیار کر لی۔ رفاعہ نے اس خاتون کے ساتھ شادی کرنے کا ارادہ کیا یہ اس خاتون کے پہلے شوہر تھے، جنہوں نے پہلے اسے طلاق دی تھی انہوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس خاتون کے ساتھ شادی کرنے سے منع کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ عورت تمہارے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی جب تک وہ (دوسرے شوہر کا) شہد نہیں چکھ لیتی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب النكاح / حدیث: 4121
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح بما قبله وما بعده - «الإرواء» (6/ 300 - 301). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4109»