کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نسب کے ثبوت اور قائف کے بارے میں بیان - اس بات کا بیان کہ مجززہ مدلجی قائف تھا
حدیث نمبر: 4103
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْرُورًا فَرِحًا مِمَّا قَالَ مُجَزِّزٌ الْمُدْلِجِيُّ ، وَنَظَرَ إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ مُضْطَجِعًا مَعَ أَبِيهِ ، فَقَالَ : " هَذِهِ الأَقْدَامُ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ " ، وَكَانَ مُجَزِّزٌ قَائِفًا .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خوشی کے عالم میں میرے ہاں تشریف لائے کیونکہ مجزز مدلجی نے اسامہ بن زید کو اپنے والد کے ساتھ لپٹے ہوئے دیکھ کر (ان کے صرف پاؤں دیکھ کر) یہ کہا: تھا: یہ باپ بیٹے کے پاؤں ہیں۔ (راوی کہتے ہیں) مجزز نامی صاحب قیافہ شناس تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب النكاح / حدیث: 4103
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله، وليس عند (خ): وَكَانَ مُجَزِّزٌ قَائِفًا؛ إلاَّ مفرَّقاً. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4091»