کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مہر کے بیان کا باب - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ ہمارے بیان کردہ اس سنت کی نقل سے صحت کی نفی کی جاتی ہے
حدیث نمبر: 4100
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالأَسْوَدُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَجُلا أَتَاهُ ، فَسَأَلَهُ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً ، فَمَاتَ عَنْهَا ، وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا ، وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا ؟ ، فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا ، وَرَدَّدَهُمْ شَهْرًا ، ثُمّ قَالَ : أَقُولُ بِرَأْيِي ، فَإِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ ، وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنْ قِبَلِي ، أَرَى لَهَا صَدَاقَ نِسَائِهَا ، لا وَكْسَ ، وَلا شَطَطَ ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ ، فَقَامَ فُلانٌ الأَشْجَعِيُّ ، وَقَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ بِمِثْلِ ذَلِكَ " ، قَالَ : فَفَرِحَ عَبْدُ اللَّهِ بِذَلِكَ ، وَكَبَّرَ .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک شخص ان کے پاس آیا اور ان سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا: جو کسی عورت کے ساتھ شادی کرتا ہے اور پھر اس شخص کا انتقال ہو جاتا ہے اس نے اس عورت کے ساتھ صحبت بھی نہیں کی اور اس کا مہر بھی مقرر نہیں کیا اس پر سیدنا عبداللہ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا ایک مہینہ گزر گیا پھر انہوں نے یہ بات بیان کی میں اپنی رائے سے یہ بات بیان کرنے لگا ہوں یہ درست ہوئی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو گی اور اگر غلط ہوئی تو میری طرف سے ہو گی۔ اس عورت کے بارے میں میری رائے یہ ہے: اسے اس کے جیسی دوسری عورتوں جتنا مہر ملے گا، جس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو گی اور اس عورت پر عدت گزارنا لازم ہو گا اور اس عورت کو وراثت میں سے حصہ ملے گا، تو فلاں اشجعی کھڑے ہوئے انہوں نے یہ بات بیان کی: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بروع بنت واشق کے بارے میں اسی کی مانند فیصلہ دیا تھا۔ راوی کہتے ہیں، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس بات پر خوش ہوئے اور انہوں نے تکبیر کہی۔