کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ولی کے بیان کا باب - اس بات کی نفی کہ ولی بالغہ عورت کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 4085
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا ، فَإِنْ سَكَتَتْ فَقَدْ أَذِنَتْ ، وَإِنْ أَبَتْ لَمْ تُكْرَهْ " .
ابوبردہ بن ابوموسیٰ اپنے والد (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” کنواری لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں مرضی معلوم کی جائے گی اگر وہ خاموش رہے، تو اس نے اجازت دے دی اگر وہ انکار کر دے تو اسے مجبور نہیں کیا جائے گا۔ “
حدیث نمبر: 4086
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى فِي عَقِبِهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَعْنَى هَذَا الْخَبَرِ : أَنَّ الْيَتِيمَةَ تُسْتَأْمَرُ قَبْلَ إِرَادَةِ عَقْدِ النِّكَاحِ عَلَيْهَا لِمَنْ تَخْتَارُ مِنَ الأَزْوَاجِ مَنْ شَاءَتْ ، فَإِذَا سَكَتَتْ فَقَدْ أَذِنَتْ فِي عَقْدِ النِّكَاحِ عَلَيْهَا .
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند منقول ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت کا مطلب یہ ہے: کنواری لڑکی کا نکاح کرنے سے پہلے اس کی مرضی معلوم کی جائے گی کہ وہ جس شخص کے ساتھ شادی کرنا چاہے اسے اختیار کر لے اور اگر وہ خاموش رہتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے اپنا نکاح کروانے کی اجازت دے دی ہے۔
حدیث نمبر: 4087
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا ، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا ، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا " أَرَادَ بِهِ : أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا بِأَنْ تَخْتَارَ مِنَ الأَزْوَاجِ مَنْ شَاءَتْ ، فَتَقُولُ : أَرْضَى فُلانًا ، وَلا أَرْضَى فُلانًا ، لا أَنَّ عَقْدَ النِّكَاحِ إِلَيْهِنَّ دُونَ الأَوْلِيَاءِ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” بیوہ عورت اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری لڑکی کی ذات کے بارے میں اس سے اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” بیوہ عورت اپنی ذات کا زیادہ حق رکھتی ہے “ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے: وہ اپنے ولی کے مقابلے میں اپنی ذات کا زیادہ حق رکھتی ہے وہ جس سے چاہے اس کے ساتھ شادی کر لے وہ یہ کہے گی: میں فلاں کے ساتھ شادی کرنے کیلئے راضی ہوں اور میں فلاں سے شادی کرنے کیلئے راضی نہیں ہوں اس سے یہ مراد نہیں ہے نکاح کا عقد منعقد کروانے کا معاملہ اس کے سپرد ہو گا اس کے اولیاء کے سپرد نہیں ہو گا۔