کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر اس اجازت کا کہ امام اپنی پسند کے شخص سے اپنی رعایا میں سے کسی کے لیے منگنی کر سکتا ہے
حدیث نمبر: 4059
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : " خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَلَى جُلَيْبِيبٍ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ إِلَى أَبِيهَا ، قَالَ : حَتَّى أَسْتَأْمِرَ أُمَّهَا ، قَالَ : فَنَعَمْ إِذًا ، فَذَهَبَ إِلَى امْرَأَتِهِ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا ، فَقَالَتْ : لا هَا اللَّهِ إِذًا ، وَقَدْ مَنَعْنَاهَا فُلانًا وَفُلانًا ، قَالَ : وَالْجَارِيَةُ فِي سِتْرِهَا تَسْمَعُ ، فَقَالَتِ الْجَارِيَةُ : أَتَرُدُّونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ ، إِنْ كَانَ قَدْ رَضِيَهُ لَكُمْ فَأَنْكِحُوهُ ، قَالَ : فَكَأَنَّهَا حَلَّتْ عَنْ أَبَوَيْهَا ، فَقَالا : صَدَقْتِ ، فَذَهَبَ أَبُوهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنْ رَضِيتَهُ لَنَا رَضِينَاهُ ؟ ، فَقَالَ : إِنِّي أَرْضَاهُ فَزَوَّجَهَا ، فَفَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ، وَخَرَجَتْ امرأة جُلَيْبِيبٍ فِيهَا ، فَوَجَدَتْ زَوْجَهَا وَقَدْ قُتِلَ ، وَتَحْتَهُ قَتْلَى مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ قَتَلَهُمْ " قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : فَمَا رَأَيْتُ بِالْمَدِينَةِ ثَيِّبًا أَنْفَقَ مِنْهَا .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جلیبیب کیلئے ایک انصاری خاتون کے ساتھ شادی کا پیغام اس خاتون کے باپ کو دیا ان صاحب نے کہا: میں لڑکی کی والدہ سے مشورہ کر لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے وہ شخص اپنی بیوی کے پاس گیا اس کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو اس عورت نے کہا: جی نہیں اللہ کی قسم! یہ نہیں ہو سکتا ہم نے تو اس لڑکی کیلئے فلاں اور فلاں شخص کے رشتے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ راوی کہتے ہیں: وہ لڑکی اس وقت پردے کے پیچھے یہ بات سن رہی تھی اس لڑکی نے کہا: کیا آپ اللہ کے رسول کی فرمائش کو قبول نہیں کریں گے اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے رشتے سے راضی ہیں تو آپ اس کے ساتھ شادی کروا دیں۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: گویا کہ اس لڑکی نے اپنے ماں باپ کی مشکل آسان کر دی۔ انہوں نے جواب دیا: تم نے ٹھیک کہا: ہے پھر اس کا والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کیلئے راضی ہیں تو ہم بھی اس سے راضی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس سے راضی ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کے ساتھ (سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ کی) شادی کروا دی (اس کے کچھ عرصے بعد) اہل مدینہ گھبراہٹ کا شکار ہوئے (یعنی کوئی جنگ ہوئی) تو سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ بھی اس میں گئی انہوں نے اپنے شوہر کو ایسی حالت میں پایا کہ وہ شہید ہو چکے تھے اور ان کے نیچے مشرکین سے تعلق رکھنے والے کچھ مقتولین بھی تھے جنہیں سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ میں ایسی کوئی بیوہ نہیں دیکھی جو اس خاتون سے زیادہ (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتی ہو۔