کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر اس وجہ کا جس کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جویرہ بنت الحارث سے شادی کی
حدیث نمبر: 4055
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ إِسْحَاقَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا سَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ فِي سَهْمٍ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ ، أَوْ لابْنِ عَمِّهِ ، فَكَاتَبَتْ عَلَى نَفْسِهَا ، وَكَانَتِ امْرَأَةً حُلْوَةً ، لا يَكَادُ يَرَاهَا أَحَدٌ إِلا أَخَذَتْ بِنَفْسِهِ ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَعِينُهُ فِي كِتَابَتِهَا ، فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلا أَنْ وَقَفَتْ عَلَى بَابِ الْحُجْرَةِ فَرَأَيْتُهَا كَرِهْتُهَا ، وَعَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَرَى مِنْهَا مَا رَأَيْتُ ، فَقَالَتْ جُوَيْرِيَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَانَ مِنَ الأَمْرِ مَا قَدْ عَرَفْتَ ، فَكَاتَبْتُ عَلَى نَفْسِي ، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعِينُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ ؟ " ، فَقَالَتْ : وَمَا هُوَ ؟ ، فَقَالَ : " أَتَزَوَّجُكِ وَأَقْضِي عَنْكِ كِتَابَكِ " ، فَقَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : " قَدْ فَعَلْتُ " ، فَلَمَّا بَلَغَ الْمُسْلِمِينَ ذَلِكَ ، قَالُوا : أَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْسَلُوا مَا كَانَ بِأَيْدِيهِمْ مِنْ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، فَلَقَدْ عُتِقَ بِتَزْوِيجِهِ مِائَةُ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، قَالَتْ : فَمَا اعْلَمُ امْرَأَةً كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَى قَوْمِهَا مِنْهَا .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق کے افراد کو قیدی بنا لیا تو جویریہ بنت حارث سیدنا ثابت بن قیس کے رضی اللہ عنہ کے حصے میں، یا شاید سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے چچازاد کے حصے میں آئیں انہوں نے کتابت کا معاہدہ کر لیا، وہ ایک خوبصورت خاتون تھیں جو بھی شخص انہیں دیکھتا ان کا گرویدہ ہو جاتا وہ اپنی کتابت کے بارے میں مدد حاصل کرنے کیلئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اللہ کی قسم! ابھی وہ حجرے کے دروازے تک پہنچی ہی تھیں کہ میں نے انہیں دیکھ لیا اور مجھے وہ ناپسند ہوئیں، کیونکہ مجھے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ جس طرح وہ مجھے خوبصورت لگی ہیں اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی محسوس ہوں گی۔ جویریہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جو صورت حال ہے وہ آپ کے علم میں ہے میں نے اپنے لیے کتابت کا معاہدہ کیا ہے، تو میں اللہ کے رسول کی خدمت میں مدد حاصل کرنے کیلئے آئی ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا (تم اس چیز کو اختیار نہیں کرو گی) جو اس سے زیادہ بہتر ہے انہوں نے دریافت کیا: وہ کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے ساتھ شادی کر لیتا ہوں اور تمہاری طرف سے کتابت کے معاوضہ کی ادائیگی کر دوں گا۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میں ایسا کرتا ہوں جب اس بات کی اطلاع مسلمانوں کو پہنچی تو انہوں نے کہا: یہ لوگ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرالی عزیز ہیں، تو انہوں نے اپنے پاس موجود بنو مصطلق کے تمام قیدیوں کو آزاد کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس شادی کرنے کی وجہ سے بنو مصطلق کے ایک سو گھرانے آزاد ہو گئے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میرے علم کے مطابق کوئی اور عورت ایسی نہیں ہے جو اپنی قوم کے افراد کیلئے سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ برکت والی ثابت ہوئی ہو۔