کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر اس اجازت کا کہ انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اس عورت کا ذکر اپنے بھائیوں سے کرے جس سے وہ منگنی کرنا چاہتا ہے، اس سے پہلے کہ وہ اس کے ولی سے منگنی کرے
حدیث نمبر: 4039
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَتُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ ، قَالَ عُمَرُ : فَلَقِيتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ ، فَقُلْتُ : إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ ، فَقَالَ : سَأَنْظُرُ فِي ذَلِكَ ، قَالَ : فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ، فَلَقِيَنِي ، فَقَالَ : مَا أُرِيدُ النِّكَاحَ يَوْمِي هَذَا ، قَالَ عُمَرُ : فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ ، فَقُلْتُ : إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ ، قَالَ : فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا ، فَكُنْتُ أَوْجَدَ عَلَيْهِ مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ ، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ، فَخَطَبَهَا إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ : لَعَلَّكَ وَجَدْتَ فِي نَفْسِكَ حِينَ عَرَضْتَ عَلَيَّ حَفْصَةَ ، فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَيْكَ شَيْئًا ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ شَيْئًا لَمَّا عَرَضْتَ عَلَيَّ ، إِلا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهَا ، وَلَمْ أَكُنْ أُفْشِي سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَوْ تَرَكَهَا لَنَكَحْتُهَا " .
سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے: حفصہ بنت عمر کے شوہر سیدنا خنیس بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے انہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل تھا ان کا انتقال مدینہ منورہ میں ہوا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری ملاقات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے انہیں حفصہ کے ساتھ شادی کی پیش کش کی میں نے کہا: اگر آپ چاہیں، تو میں آپ کی شادی حفصہ بنت عمر سے کروا دیتا ہوں انہوں نے کہا: میں اس معاملے میں غور کروں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کچھ دن بعد ان کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا: میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں پھر میری ملاقات سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے کہا: اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ بنت عمر کے ساتھ آپ کی شادی کروا دیتا ہوں، تو انہوں نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ مجھے ان پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے زیادہ غصہ آیا پھر کچھ دن گزر گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نکاح کا پیغام بھجوایا میں نے حفصہ کی شادی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دی پھر میری ملاقات سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہوئی انہوں نے فرمایا: جب تم نے مجھے حفصہ کی شادی کی پیشکش کی تھی، تو میں نے تمہیں کوئی جواب نہیں دیا تھا شاید اس وجہ سے تمہیں مجھ سے کوئی ناراضگی ہے میں نے جواب دیا: جی ہاں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تم نے مجھے یہ پیشکش کی تھی، تو میں نے تمہیں جواب اس لیے نہیں دیا تھا کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی) کا ذکر کرتے ہوئے سنا تھا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کو ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ کرتے تو میں اس کے ساتھ شادی کر لیتا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب النكاح / حدیث: 4039
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (5122). * قال الشيخ: عزاهُ في كنز «العمَّال» (13/ 697 - 698) لـ: (ابن سعد، حم، خ، ن، ق، ع، حب، وزاد: قال عمر: فشكوتُ عُثمان إِلَى رسولِ الله صلى الله عليه وسلم، فقال صلى الله عليه وسلم: تُزَوّجُ حَفصهُ خَيراً مِنْ عُثمانَ وَيُزوَّجُ عُثمانُ خَيراً مِنْ حَفصةَ؛ فَزَوَّجه النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ابنَتَه! فلينظر أَينَ هَذِهِ الزِّيَادة عند المصنِّف - المرموز له بـ (حب)؟! - أو هو مُحرَّف! *وقال الناشر: قُلنا: انظر «طبقات ابن سعد» (8/ 83). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4028»