کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ہدی (قربانی) کا بیان -
حدیث نمبر: 4026
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا ، وَابْنُ مَسْعُودٍ نمشي بالمدينة ، قَالَ : فَلَقِيَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، فَأَخَذَ بِيَدِهِ ، قَالَ : فَقَامَا ، وَتَنَحَّيْتُ عَنْهُمَا ، فَلَمَّا رَأَى عَبْدُ اللَّهِ أَنْ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ يَسِرُّهَا ، قَالَ : ادْنُ عَلْقَمَةُ ، قَالَ : فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ ، يَقُولُ : أَلا نُزَوِّجُكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ جَارِيَةً لَعَلَّهَا أَنْ تُذَكِّرَكَ مَا فَاتَكَ ؟ قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَئِنْ قُلْتَ ذَلِكَ ، فَإِنَّا قَدْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَابًا ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَصُمْ ، فَإِنَّهُ لَهُ وَجَاءٌ " ، وَهُوَ الإِخْصَاءُ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الأَمْرُ بِالتَّزْوِيجِ فِي هَذَا الْخَبَرِ ، وَسَبَبُهُ اسْتِطَاعَةُ الْبَاءَةِ ، وَعِلَّتُهُ غَضُّ الْبَصَرِ ، وَتَحْصِينُ الْفَرْجِ ، وَالأَمْرُ الثَّانِي هُوَ الصَّوْمُ عِنْدَ عُدْمِ السَّبَبِ ، وَهُوَ الْبَاءَةُ ، وَالْعِلَّةُ الأُخْرَى هُوَ قَطْعُ الشَّهْوَةِ .
علقمہ بن قیس بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں کہیں جا رہے تھے تو سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہو گئی انہوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا۔ راوی کہتے ہیں: یہ دونوں صاحبان اٹھے اور ذرا ایک طرف ہو گئے جب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے (دور جا کر) یہ بات نوٹ کی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ان سے کوئی ایسا کام نہیں ہے جسے پوشیدہ رکھا جائے، تو انہوں نے فرمایا: علقمہ تم آگے آ جاؤ۔ راوی کہتے ہیں: میں ان کے پاس گیا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ یہ کہہ رہے تھے: اے عبداللہ! ہم آپ کی شادی کسی لڑکی سے نہ کروا دیں تاکہ وہ آپ کو گزرے ہوئے (جوانی کے زمانے) کی یاد دلا دے۔ راوی کہتے ہیں، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر آپ یہ بات کہتے ہیں (تو میں آپ کو بتاتا ہوں) ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں نوجوان تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: تم میں سے جو شخص نکاح کی استطاعت رکھتا ہو اسے شادی کر لینی چاہئے کیونکہ یہ نگاہ کو زیادہ جھکا کے رکھتی ہے اور شرم گاہ کی زیادہ حفاظت کرتی ہے اور تم میں سے جو شخص شادی کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا اسے روزے رکھنے چاہئیں، کیونکہ یہ اس کی شہوت کو ختم کر دیں گے۔ (راوی کہتے ہیں: روایت کے متن میں استعمال ہونے والے لفظ) وجاء سے مراد شہوت کو ختم کرنا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں شادی کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس کا سبب شادی کرنے کی استطاعت ہے اور اس کی علت نکاح کو جھکانا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنا ہے جبکہ دوسرا حکم یہ ہے: جب یہ سبب موجود نہ ہو تو روزے رکھے جائیں اور وہ سبب شادی کی استطاعت نہ ہونا ہے اور اس کی دوسری علت شہوت کو ختم کرنا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب النكاح / حدیث: 4026
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1785): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح وإسناده قوي
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 4015»