کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: احصار (حج میں رکاوٹ) کا بیان - اس بات کی صفت کا ذکر کہ محرم اگر بیت عتیق سے روکے جانے کا خوف رکھتا ہو تو کیا کرے
حدیث نمبر: 3998
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَرَادَ الْحَجَّ عَامَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ النَّاسَ كَائِنٌ فِيهِمْ قِتَالٌ ، وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يَصُدُّوكَ ، فَقَالَ : " لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 إِذًا أَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عَمْرَةً ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَاهِرِ الْبَيْدَاءِ ، قَالَ : مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلا شَانٌ وَاحِدٌ ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِي ، وَأَهْدَى هَدْيًا اشْتَرَاهُ بِقُدَيْدٍ ، فَانْطَلَقَ يُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا ، حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ ، وَلَمْ يَنْحَرْ ، وَلَمْ يَحْلِقْ ، وَلَمْ يَقْصُرْ ، وَلَمْ يَحِلَّ مِنْ شَيْءٍ أَحْرَمَ مِنْهُ حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ نَحَرَ ، وَحَلَقَ ، ثُمَّ رَأَى أَنْ قَدْ قَضَى طَوَافَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ بِطَوَافِ الأَوَّلِ ، وَقَالَ : كَذَلِكَ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
نافع بیان کرتے ہیں: جس سال حجاج نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا تھا اس سال سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حج کرنے کا ارادہ کیا، تو ان سے کہا: گیا لوگوں کے درمیان جنگ ہونے لگی ہے ہمیں اس بات کا اندیشہ ہے وہ آپ کو (مکہ) تک نہیں جانے دیں گے تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ” تمہارے لیے اللہ کے رسول کے طریقے میں بہترین نمونہ ہے۔ “ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا) اس صورت میں، میں اسی طرح کروں گا، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا میں تم لوگوں کو گواہ بنا کے یہ بات کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ (اپنے اوپر) لازم کر لیا ہے پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب وہ بیداء کے مقام پر پہنچے تو انہوں نے فرمایا: حج اور عمرے کا طریقہ ایک ہی جیسا ہے، تو میں تم لوگوں کو گواہ بنا کے یہ بات کہتا ہوں میں نے اپنے عمرے کے ہمراہ حج کو بھی لازم کر لیا ہے اور میں قربانی کا جانور ساتھ لے کر جاؤں گا، جو میں قدید کے مقام سے خرید چکا ہوں اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان دونوں (یعنی حج اور عمرہ) کا تلبیہ پڑھتے ہوئے روانہ ہو گئے، یہاں تک کہ وہ مکہ آئے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کیا انہوں نے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کیا نہ انہوں نے قربانی کی نہ سر منڈوایا نہ بال چھوٹے کروائے اور نہ ہی ایسی کسی چیز سے حلال ہوئے جو احرام کی پابندیوں میں شامل ہو، یہاں تک کہ جب قربانی کا دن آ گیا تو انہوں نے قربانی کی، سر منڈوایا، انہوں نے یہ سمجھا کہ جب انہوں نے پہلی مرتبہ طواف کیا تھا تو اس کے ذریعے انہوں نے حج اور عمرے دونوں کے طواف کو ادا کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بات بیان کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔