کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: دوسروں کی طرف سے حج و عمرہ کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ فوت شدہ شخص کے لیے حج کرنا جائز ہے جس پر فریضہ واجب تھا
حدیث نمبر: 3992
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنْ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أَبِي مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ ، أَفَأَحُجَّ عَنْهُ ؟ ، قَالَ : " أَرَأَيْتَ لَوَ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " حُجَّ عَنْ أَبِيكَ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے انہوں نے حج نہیں کیا تھا تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تمہارا کیا خیال ہے اگر تمہارے والد کے ذمے قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کر دیتے؟ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اپنے والد کی طرف سے حج کر لو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحج / حدیث: 3992
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3047). * [حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ] قال الشيخ: تابعه يحيى بن خالد الرَّقِّي عند الطبراني (12/ 15 / 12332)، وعبد الله بن جعفر الرَّقِّي في «المشكل» (3/ 221). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3981»