حدیث نمبر: 3988
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلا ، يَقُولُ : لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ شُبْرُمَةُ ؟ " ، قَالَ : أَخٌ لِي ، أَوْ قَرَابَةٌ ، قَالَ : " هَلْ حَجَجْتَ قَطُّ ؟ " ، قَالَ : لا ، قَالَ : " فَاجْعَلْ هَذِهِ عَنْ نَفْسِكِ ، ثُمَّ احْجُجْ عَنْ شُبْرُمَةَ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَاجْعَلْ هَذِهِ عَنْ نَفْسِكَ " أَرَادَ بِهِ الإِعْلامَ بِنَفْيِ جَوَازِ الْحَجِّ عَنِ الْغَيْرِ إِذَا لَمْ يَحُجَّ عَنْ نَفْسِهِ ، وَقَوْلُهُ : " ثُمَّ احْجُجْ عَنْ شُبْرُمَةَ " أَمْرُ إِبَاحَةٍ لا حَتْمٍ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں شبرمہ کی طرف سے حج کرنے کیلئے حاضر ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: شبرمہ کون ہے؟ اس نے جواب دیا: میرا بھائی ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میرا رشتے دار ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم نے خود حج کر لیا ہے؟ اس نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اس (حج) کو تم اپنی طرف سے کرو اور بعد میں شبرمہ کی طرف سے حج کر لینا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” اسے تم اپنی طرف سے کرو “ اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اس بات کی اطلاع دینا تھی کہ جب کسی شخص نے خود حج نہ کیا ہو، تو اس کے لیے کسی دوسرے کی طرف سے حج کرنا جائز نہیں ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” پھر تم شبرمہ کی طرف سے حج کر لینا “ یہ حکم (اباحت) کیلئے ہے لازمی قرار دینے کیلئے نہیں ہے۔