کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: کفارہ کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 3985
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ : قَعَدْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ الآيَةِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196 ، فَقَالَ كَعْبٌ : فِيَّ نَزَلَتْ ، كَانَ بِي أَذًى مِنْ رَأْسِي ، فَحُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا كِدْتُ أَرَى الْجَهْدَ بَلَغَ مِنْكَ مَا أَرَى ، أَتَجِدُ شَاةً " ، قُلْتُ : لا ، قَالَ : فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ، فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196 فَالصَّوْمُ ثَلاثَةُ أَيَّامٍ ، وَالصَّدَقَةُ عَلَى كُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ طَعَامٍ ، وَالنُّسُكُ شَاةٌ .
عبداللہ بن معقل بیان کرتے ہیں: میں سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس مسجد میں بیٹھا ہوا تھا میں نے ان سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا۔ ” تو اس کا فدیہ روزے رکھنا ہو گا یا صدقہ کرنا ہو گا یا قربانی کرنا ہو گا۔ “ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے بتایا: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی میرے سر میں تکلیف تھی (یعنی جوئیں زیادہ ہو گئی تھیں) مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا میرے چہرے پر جوئیں آ رہی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ تمہاری پریشانی اتنی بڑھ چکی ہو گی جو مجھے اب نظر آ رہی ہے کیا تمہارے پاس بکری ہے؟ میں نے عرض کی: جی نہیں۔ راوی کے کہتے ہیں، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ” تو اس کا فدیہ روزے رکھنا یا صدقہ کرنا یا قربانی کرنا ہو گا۔ “ (راوی بیان کرتے ہیں:) تو روزے تین دن کے ہوں گے اور صدقے میں ہر مسکین کو اناج کا نصف صاع دیا جائے گا اور قربانی بکری کی ہو گی۔