کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: محرم کے لیے مباح اور غیر مباح امور کا بیان - اس بات کی اجازت کہ محرم صید کا گوشت کھائے اگر اس نے اس پر کوئی مدد نہ کی ہو
حدیث نمبر: 3975
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيِّ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ ، تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ ، فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا ، فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ ، وَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ ، فَأَبَوْا ، فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ ، فَأَبَوْا فَأَخَذَهُ ، ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ ، فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبَى بَعْضُهُمْ ، فَلَمَّا أَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ " .
سیدنا ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے یہاں تک کہ مکہ کے راستے میں کسی جگہ پر وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے) پیچھے رہ گئے ان کے ساتھیوں نے احرام باندھا ہوا تھا، لیکن سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے احرام نہیں باندھا ہوا تھا۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ایک حمار وحشی (یعنی زیبرہ) دیکھا تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے انہوں نے اپنے ساتھیوں سے یہ فرمائش کی کہ وہ انہیں ان کی لاٹھی پکڑا دیں، تو ان کے ساتھیوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان سے نیزہ مانگا، تو انہوں نے وہ بھی نہیں دیا۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے خود ہی اسے لیا، پھر اس زیبرے پر حملہ کر کے اسے مار دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بعض اصحاب نے اس کا گوشت کھا لیا بعض نے اس کا گوشت نہیں کھایا، جب یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ خوراک ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں کھلائی ہے۔
حدیث نمبر: 3976
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ بِالْبَصْرَةَ شَيْخَانِ حَافِظَانِ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُقَيْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا قَتَادَةَ الأَنْصَارِيَّ عَلَى الصَّدَقَةَ ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مُحْرِمُونَ ، حَتَّى نَزَلُوا بِعُسْفَانَ ثَنِيَّةِ الْغَزَّالِ ، فَإِذَا هُمْ بِحِمَارٍ وَحْشِيٍّ ، فَجَاءَ أَبُو قَتَادَةَ ، وَهُوَ حِلٌّ فَنَكَّسُوا رُؤُوسَهُمْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُحِدُّوا أَبْصَارَهُمْ فَيَفْطَنَ ، فَرَآهُ فَرَكِبَ فَرَسَهُ ، وَأَخَذَ الرُّمْحَ ، فَسَقَطَ مِنْهُ السَّوْطُ ، فَقَالَ : نَاوِلْنِيهِ ، فَقُلْنَا : لا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ ، فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَعَقَرَهُ ، قَالَ : ثُمَّ جَعَلُوا يَشْوُونَ مِنْهُ ، ثُمَّ قَالُوا : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا ، وَكَانَ تَقَدَّمَهُمْ ، فَأَتَوْهُ ، فَسَأَلُوهُ ، فَلَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا " ، وَأَظُنُّهُ قَالَ : مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ شَكَّ عُبَيْدُ اللَّهِ .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کو زکوۃ وصول کرنے کیلئے بھیجا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب احرام باندھ کر روانہ ہو گئے، یہاں تک کہ انہوں نے ” عسفان “ میں موجود ” غزال “ نامی گھاٹی میں پڑاؤ کیا وہاں ایک حمار وحشی (یعنی زیبرہ) موجود تھا۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے اس وقت احرام نہیں باندھا ہوا تھا دیگر صحابہ کرام نے اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے اپنے سر جھکا لیے کہ کہیں ان کی نگاہوں کا پیچھا کرتے ہوئے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو (اس شکار کے بارے میں) پتہ نہ چل جائے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بھی (اس شکار کو) دیکھ لیا وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے انہوں نے نیزہ پکڑا ان کی سوٹی نیچے گر گئی تو انہوں نے کہا: یہ مجھے پکڑا دیں، تو ہم نے کہا: ہم اس بارے میں کسی بھی حوالے سے آپ کی مدد نہیں کریں گے تو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اس پر حملہ کر کے اسے مار گرایا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر انہوں نے اس کا کچھ گوشت بھون لیا انہوں نے یہ کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں (راوی کہتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت آگے تشریف لے جا چکے تھے وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ سے اس بارے میں دریافت کیا: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا (راوی کہتے ہیں) میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس اس میں سے (کچھ گوشت) ہے یہ شک عبیداللہ نامی راوی کو ہے۔