کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: محرم کے لیے مباح اور غیر مباح امور کا بیان - اس بات کا بیان کہ محرم کے لیے اس صید کو کھانا جائز ہے جو اسے ہدیہ کیا گیا ہو، بشرطیکہ اس کا حکم یا اشارہ نہ ہو
حدیث نمبر: 3974
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : كَانَ أَبُو قَتَادَةَ فِي نَاسٍ مُحْرِمِينَ ، وَأَبُو قَتَادَةَ حَلَّ ، فَأَبْصَرَ الْقَوْمُ حِمَارَ وَحْشٍ ، فَلَمْ يُؤْذِنُوهُ حَتَّى أَبْصَرَهُ أَبُو قَتَادَةَ ، فَقَعَدَ عَلَى ظَهْرِ فَرَسٍ ، وَاخْتَلَسَ مِنْ بَعْضِهِمْ سَوْطًا ، فَحَمَلَ عَلَى الْحِمَارِ فَصَرَعَهُ ، فَأَتَاهُمْ بِهِ ، فَأَكَلُوا ، وَحَمَلُوا ، فَلَقُوا رَسُولَ اللَّهِ ، فَسَأَلُوهُ عَمَّا صَنَعَ أَبُو قَتَادَةَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ أَشَارَ إِلَيْهِ إِنْسَانٌ مِنْكُمْ بِشَيْءٍ أَوْ أَمَرَهُ ؟ " ، قَالُوا : لا ، قَالَ : " فَكُلُوهُ " .
عبداللہ بن ابوقتادہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے ساتھ موجود تھے وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے، جبکہ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے احرام نہیں باندھا ہوا تھا لوگوں نے ایک حمار وحشی (یعنی زیبرہ) دیکھا ان لوگوں نے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں نہیں بتایا، یہاں تک کہ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی نظر اس پر پڑ گئی وہ اپنے گھوڑے کی پشت پر بیٹھے انہوں نے ان حضرات میں سے کسی کی لاٹھی لی اور اس زیبرے پر حملہ کر کے اسے مار دیا پھر وہ اس کا (گوشت) لے کر ان حضرات کے پاس آئے ان حضرات نے اسے کھا لیا اس کا گوشت اپنے ساتھ بھی رکھ لیا جب ان کی ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو ان حضرات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے عمل کے بارے میں دریافت کیا: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم میں سے کسی شخص نے اس (شکار) کی طرف اشارہ کیا تھا یا اسے (شکار کرنے کا) حکم دیا تھا؟ ان حضرات نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم لوگ اسے کھا لو۔