کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: محرم کے لیے مباح اور غیر مباح امور کا بیان - اس بات کی اجازت کہ محرم جنگلی جانور کا گوشت کھائے اگر اس نے اس کے شکار میں مدد نہ کی ہو
حدیث نمبر: 3966
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : كَانَ أَبُو قَتَادَةَ فِي قَوْمٍ مُحْرِمِينَ ، وَهُوَ حَلالٌ ، فَعَرَضَ لأَصْحَابِهِ حِمَارٌ وَحْشِيٌّ ، فَلَمْ يُؤْذِنُوهُ حَتَّى أَبْصَرَهُ وَهُوَ جَالِسٌ ، فَاخْتَلَسَ مِنْ بَعْضِهِمِ سَوْطًا ، فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَصَرَعَهُ ، فَأَتَاهُمْ بِهِ ، فَأَكَلُوا ، وَحَمَلُوا مَعَهُمْ ، فَأَتَوْا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلُوهُ ؟ ، فَقَالَ : " هَلْ أَشَارَ إِلَيْهِ إِنْسَانٌ مِنْكُمْ ؟ " ، قَالُوا : لا ، قَالَ : " فَكُلُوهُ " .
عبداللہ بن ابوقتادہ کہتے ہیں سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ احرام والے افراد کے ساتھ تھے جبکہ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے خود احترام نہیں باندھا ہوا تھا ان حضرات کے سامنے ایک حمار وحشی (زیبرہ) آیا سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے انہیں اس بارے میں نہیں بتایا، یہاں تک کہ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے خود اسے دیکھ لیا وہ اس وقت بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے ان حضرات کی لاٹھی لی اس پر حملہ کیا اور اسے مار دیا وہ اسے لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آئے، تو انہوں نے اس کا گوشت کھا لیا انہوں نے اپنے ساتھ بھی اسے رکھ لیا جب یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم میں سے کسی شخص نے (احرام کی حالت میں) اس کی طرف اشارہ کیا تھا ان لوگوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اسے کھا لو۔
حدیث نمبر: 3967
أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ ، أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّ بِالأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ ، قَالَ : فَرَدَّهُ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيَّ ، فَلَمَّا عَرَفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِي ، قَالَ : " لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ ، وَلَكِنَّا حُرُمٌ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ” ابواء “ یا شاید ” ودان “ کے مقام پر حمار وحشی (یعنی زیبرے) کا گوشت پیش کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہیں کیا میرے لیے یہ بات پریشانی کا باعث بنی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر (پریشانی) کے آثار دیکھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہم یہ تمہیں واپس نہ کرتے، لیکن ہم احرام کی حالت میں ہیں۔
حدیث نمبر: 3968
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قُلْتُ : لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ : " أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَ لَهُ عُضْوُ صَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں میں نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آپ کے علم میں یہ بات ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکار کا ایک عضو تحفے کے طور پر پیش کیا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت احرام کی حالت میں تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا تھا (یعنی قبول نہیں کیا تھا) تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں۔