کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: محرم کے لیے مباح اور غیر مباح امور کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "اسے دو کپڑوں میں لپیٹ دو" سے مراد وہ دو کپڑے ہیں جن میں اس نے احرام باندھا تھا
حدیث نمبر: 3959
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنْ رَجُلا كَانَ مُحْرِمًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ فَمَاتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ ، وَلا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ ، وَلا تُمِسُّوهُ طَيِّبًا ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (حج کرنے والے) ایک محرم شخص کی اونٹنی نے اسے گرا دیا اس کا انتقال ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ذریعے غسل دو اور اسے اس کے دو کپڑوں میں کفن دیدو اس کے سر کو ڈھانپنا نہیں اور اسے خوشبو نہ لگانا، کیونکہ اسے قیامت کے دن تلبیہ پڑھتے ہوئے زندہ کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحج / حدیث: 3959
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3948»