کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: محرم کے لیے مباح اور غیر مباح امور کا بیان - اس بات کی اجازت کہ محرم اپنے احرام میں سر دھوئے
حدیث نمبر: 3948
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ اختلفا بالأبواء ، فقال عبد الله بن عباس : يغسل المحرم رأسه ، وَقَالَ الْمِسْوَرُ لا يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ ، فَأَرْسَلَنِي إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ ، وَهُوَ يَسْتَتِرُ بِثَوْبٍ ، قَالَ : فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ ، فَقُلْتُ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُنَيْنٍ ، أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ ؟ ، قَالَ : فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ وَطَأْطَأَهُ ، حَتَّى بَدَا لِي رَأْسَهُ ، ثُمَّ قَالَ لإِنْسَانٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ : اصْبُبْ ، فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ، ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ ، ثُمَّ قَالَ : " هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ " .
ابراہیم بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ” ابواء “ کے مقام پر اختلاف ہو گیا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ کہنا تھا، محرم شخص اپنے سر کو دھو سکتا ہے، جبکہ مسور کا یہ کہنا تھا کہ محرم شخص اپنے سر کو نہیں دھو سکتا ہے ان حضرات نے مجھے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا، تاکہ میں ان سے اس بارے میں دریافت کروں، میں نے انہیں پالان کی دو لکڑیوں کے درمیان غسل کرتے ہوئے پایا۔ انہوں نے ایک کپڑے کے ذریعے پردہ کیا ہوا تھا۔ میں نے انہیں سلام کیا، تو انہوں نے دریافت کیا: کون ہے؟ میں نے جواب دیا: میں عبداللہ بن حنین ہوں مجھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے تاکہ میں آپ سے یہ دریافت کروں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احرام کے دوران کس طرح اپنے سر کو دھوتے تھے؟ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھ کر اسے کچھ نیچے کیا، یہاں تک کہ ان کا سر مجھے نظر آنے لگا پھر انہوں نے پانی انڈیلنے والے شخص سے یہ کہا: کہ مجھ پر پانی انڈیلو، اس نے ان کے سر پر پانی انڈیلا، تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کے ذریعے اپنے سر میں حرکت دی۔ وہ اپنے ہاتھوں کو آگے سے پیچھے کی طرف لے کر گئے پھر پیچھے سے آگے کی طرف لے کر آئے۔ پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحج / حدیث: 3948
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1613): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3937»