کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج و عمرہ کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حج میں متمتع نہ تھے
حدیث نمبر: 3942
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مُوَافِينَ لِهِلالِ ذِي الْحِجَّةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ ، فَإِنِّي لَوْلا أَنِّي أَهْدَيْتُ لأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ " ، فَأَهَلَّ بِهِ بَعْضُ أَصْحَابِهِ بِحَجَّةٍ ، وَبَعْضُهُمْ بِعُمْرَةٍ ، قَالَتْ : وَكُنْتُ فِيمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ ، فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ لَمْ أَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِي ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعِي عُمْرَتَكِ ، وَانْقُضِي رَأْسَكِ ، وَامْتَشِطِي ، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ " ، قَالَتْ : فَفَعَلْتُ حَتَّى إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ ، أَرْسَلَ مَعَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، فَأَرْدَفَهَا ، فَخَرَجَتْ إِلَى التَّنْعِيمِ ، فَأَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِهَا ، فَطَافَتْ بِالْبَيْتِ ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَقَضَى اللَّهُ حَجَّهَا وَعُمْرَتَهَا ، وَلَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ صَوْمٌ ، وَلا هَدْيٌ ، وَلا صَدَقَةٌ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ذوالج کا چاند نظر آنے والا تھا۔ جب ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (حج کرنے کے لیے) روانہ ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص عمرے کا تلبیہ پڑھنا چاہے وہ اس کا پڑھ لے۔ اگر میں نے قربانی کا جانور ساتھ نہ رکھا ہوتا، تو میں بھی عمرے کا تلبیہ پڑھ لیتا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب نے حج کا تلبیہ پڑھا اور بعض نے عمرے کا تلبیہ پڑھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں ان لوگوں میں شامل تھی جنہوں نے عمرے کا تلبیہ پڑھا تھا۔ عرفہ کے دن مجھے حیض آ گیا میں اپنے عمرے کا احترام نہیں کھول سکی۔ میں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم عمرے کو چھوڑ دو اور اپنے بالوں کو کھول کر ان میں کنگھی کر لو اور حج کا تلبیہ پڑھنا شروع کر دو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے ایسا ہی کیا، یہاں تک کہ جب حصبہ کی رات آئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ان کے ہمراہ بھیجا اور انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے پیچھے بٹھایا اور انہیں ساتھ لے کر تنعیم چلے گئے۔ وہاں سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے عمرے کی جگہ عمرے کا احرام باندھا۔ انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا صفا اور مروہ کی سعی کی یوں اللہ تعالیٰ نے ان کے حج اور عمرے کو مکمل کر دیا اور اس بارے میں (روزہ رکھنے یا قربانی دینے یا صدقہ دینے کی صورت میں فدیہ ادا نہیں کرنا پڑا)۔