کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج و عمرہ کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عمرہ سے حج تک تمتع سے منع کرتے تھے
حدیث نمبر: 3940
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَأْمُرُنَا بِالْمُتْعَةِ ، وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْهَى عَنْهَا ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِجَابِرٍ ، فَقَالَ : عَلَى يَدِي دَارَ الحَدِيثُ ، تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ كَانَ يَحِلُّ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ لَمَّا شَاءَ ، وَإِنَّ الْقُرْآنَ قَدْ نَزَلَ مَنَازِلَهُ ، فَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ ، وَأَبِتُّوا نِكَاحَ هَذِهِ النِّسَاءِ ، فَلا أُوتَى بِرَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً إِلَى أَجْلٍ إِلا رَجَمْتُهُ بِالْحِجَارَةِ " .
ابونضرہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہمیں حج تمتع کی ہدایت کرتے تھے جبکہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اس سے منع کیا کرتے تھے میں نے اس بات کا تذکرہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کیا، تو انہوں نے فرمایا: اب میرے ذریعے بات کی تحقیق مکمل ہو گی۔ ہم لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حج تمتع کیا ہے جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا، تو انہوں نے یہ فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے جو چاہا اور جتنا چاہا حلال قرار دیا اور قرآن کے اپنے مخصوص احکامات ہیں تم لوگ حج اور عمرے کو مکمل کرو جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے اور تم لوگ نکاح متعہ کرنے سے باز رہو میرے پاس جو بھی ایسا شخص لایا جائے جس نے کسی عورت کے ساتھ کسی متعین مدت کے لیے نکاح کیا ہو، تو میں اسے پتھروں کے ذریعے سنگسار کر دوں گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الحج / حدیث: 3940
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (4/ 38). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3929»