کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: تمتع کے حج کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں احلال کا حکم دیا اور خود احلال نہ کیا
حدیث نمبر: 3925
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا شَأْنُ النَّاسِ ، حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ ؟ ، فَقَالَ : " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي ، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي ، فَلا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ کیا وجہ ہے کہ لوگوں نے احرام کھول دیا ہے اور آپ نے عمرے کے بعد احرام نہیں کھولا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے سر کے بالوں کو جمایا ہوا ہے اور قربانی کا جانور ساتھ رکھا ہوا ہے اس لیے جب تک میں قربانی نہیں کرتا اس وقت تک احرام نہیں کھولوں گا۔