کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: قران کے حج کا بیان - اس بات کا بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمارے بیان کردہ عمل کا حکم دیا، اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ مکہ میں داخل ہوں، جیسا کہ انہوں نے سرف میں حکم دیا تھا
حدیث نمبر: 3919
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمُلائِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالا : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ ، وَمَعَنَا النِّسَاءُ وَالذَّرَارِيُّ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طُفْنَا بِالْبَيْتِ ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ " ، فَقُلْنَا : أَيُّ الْحِلِّ ؟ ، فَقَالَ : " الْحِلُّ كُلُّهُ " ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ ، قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْتَرِكُوا فِي الإِبِلِ وَالْبَقَرِ ، كُلُّ سَبْعَةٍ فِي بَدَنَةٍ " ، قَالَ : فَجَاءَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلأَبَدِ ؟ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا بَلْ لِلأَبَدِ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَيِّنْ لَنَا دِينَنَا ، كَأَنَّمَا خُلِقْنَا الآنَ ، أَرَأَيْتَ الْعَمَلَ الَّذِي نَعْمَلُ بِهِ ، أَفِيمَا جَفَّتْ بِهِ الأَقْلامُ ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ ، أَمْ مِمَّا نَسْتَقْبِلُ ؟ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا بَلْ فِيمَا جَفَّتْ بِهِ الأَقْلامُ ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ " ، قُلْتُ : فَفِيمَ الْعَمَلُ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اعْمَلُوا ، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذِهِ الأَخْبَارِ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا فِي إِفْرَادِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ ، وَقِرَانِهِ وَتَمَتُّعِهِ بِهِمَا مِمَّا تَنَازَعَ فِيهَا الأَئِمَّةُ مِنْ لَدُنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَوْمِنَا هَذَا ، وَيُشَنِّعُ بِهِ الْمُعَطِّلَةُ ، وَأَهْلُ الْبِدَعِ عَلَى أَئِمَّتِنَا ، وَقَالُوا : رَوَيْتُمْ ثَلاثَةَ أَحَادِيثَ مُتَضَادَّةٌ فِي فِعْلٍ وَاحِدٍ ، وَرَجُلٍ وَاحِدٍ ، وَحَالَةٍ وَاحِدَةٍ ، وَزَعَمْتُمْ أَنَّهَا ثَلاثَتُهَا صِحَاحٌ مِنْ جِهَةِ النَّقْلِ ، وَالْعَقْلُ يَدْفَعُ مَا قُلْتُمْ ، إِذْ مُحَالٌ أَنَّ يَكُونَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ كَانَ مُفْرَدًا قَارِنًا مُتَمَتِّعًا ، فَلَمَّا صَحَّ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ قَارِنًا مُتَمَتِّعًا مُفْرَدًا ، صَحَّ أَنَّ الأَخْبَارَ يَجِبُ أَنْ يُقْبَلَ مِنْهَا مَا يُوَافِقُ الْعَقْلَ ، وَمَهْمَا جَازَ لَكُمْ أَنْ تَرُدُّوا خَبَرًا يَصِحُّ ، ثُمَّ لا تَسْتَعْمِلُوهُ ، أَوْ تُؤْثِرُوا غَيْرَهُ عَلَيْهِ كَمَا فَعَلْتُمْ فِي هَذِهِ الأَخْبَارِ الثَّلاثَةِ ، يَجُوزُ لِخِصْمِكُمْ أَنْ يَأْخُذَ مَا تَرَكْتُمْ ، وَيَتْرُكَ مَا أَخَذْتُمْ ، وَلَوْ تَمَلَّقَ قَائِلٌ هَذَا فِي الْخَلْوَةِ إِلَى الْبَارِئِ جَلَّ وَعَلا ، وَسَأَلَهُ التَّوْفِيقَ لإِصَابَةِ الْحَقِّ ، وَالْهِدَايَةِ لِطَلَبِ الرُّشْدِ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ الأَخْبَارِ ، وَنَفْيِ التَّضَادِ عَنِ الآثَارِ ، لَعَلِمَ بِتَوْفِيقِ الْوَاحِدِ الْجَبَّارِ ، أَنَّ أَخْبَارَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا تَضَادَ بَيْنَهَا وَلا تَهَاتُرَ ، وَلا يُكَذِّبُ بَعْضُهَا بَعْضًا إِذَا صَحَّتُ مِنْ جِهَةِ النَّقْلِ ، لَعَرِفَهَا الْمُخَصُوصُونَ فِي الْعِلْمِ ، الذَّابُّونَ عَنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَذِبَ ، وَعَنْ سُنَّتِهِ الْقَدَحَ ، الْمُؤْثِرُونَ مَا صَحَّ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْلِ مَنْ بَعْدَهُ مِنْ أُمَّتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْفَصْلُ بَيْنَ الْجَمْعِ فِي هَذِهِ الأَخْبَارِ ، أَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ حَيْثُ أَحْرَمَ ، كَذَلِكَ قَالَهُ مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، فَخَرَجَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُهِلُّ بِالْعُمْرَةِ وَحْدَهَا ، حَتَّى بَلَغَ سَرِفَ ، أَمَرَ أَصْحَابَهُ بِمَا ذَكَرْنَا فِي خَبَرِ أَفْلَحَ بْنِ حُمَيْدٍ ، فَمِنْهُمْ مَنْ أَفْرَدَ حِينَئِذٍ ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَقَامَ عَلَى عُمْرَتِهِ ، وَلَمْ يَحِلَّ ، فَأَهَلَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِمَا مَعًا حِينَئِذٍ إِلَى أَنْ دَخَلَ مَكَّةَ ، وَكَذَلِكَ أَصْحَابُهُ الَّذِينَ سَاقُوا مَعَهُمُ الْهَدْيَ ، وَكُلُّ خَبَرٍ رُوِيَ فِي قِرَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ حَيْثُ رَأَوْهُ يُهِلُّ بِهِمَا بَعْدَ إِدْخَالِهِ الْحَجَّ عَلَى الْعُمْرَةِ إِلَى أَنْ دَخَلَ مَكَّةَ ، فَلَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَافَ وَسَعَى ، أَمَرَ ثَانِيًا مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقٍ الْهَدْيَ ، وَكَانَ قَدْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ أَنْ يَتَمَتَّعَ وَيَحِلَّ ، وَكَانَ يَتَلَهَّفُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا فَاتَهُ مِنَ الإِهْلالِ ، حَيْثُ كَانَ سَاقٍ الْهَدْيَ ، حَتَّى إِنَّ بَعْضَ أَصْحَابِهِ مِمَنْ لَمْ يَسُقِ الْهَدْيَ لَمْ يَكُونُوا يُحِلُّونَ حَيْثُ رَأَوَا الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ ، حَتَّى كَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا وَصَفْنَاهُ مِنْ دُخُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ وَهُوَ غَضْبَانُ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ ، وَأَحْرَمَ الْمُتَمَتِّعُونَ خَرَجَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مِنًى ، وَهُوَ يُهِلُّ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا ، إِذِ الْعُمْرَةُ الَّتِي قَدْ أَهَلَّ بِهَا فِي أَوَّلِ الأَمْرِ قَدِ انْقَضَتْ عِنْدَ دُخُولِهِ مَكَّةَ بِطَوَافِهِ بِالْبَيْتِ ، وَسَعْيِهِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَحَكَى ابْنُ عُمَرَ ، وَعَائِشَةُ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ الْحَجَّ " أَرَادَ مِنْ خُرُوجِهِ إِلَى مِنًى مِنْ مَكَّةَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ هَذِهِ الأَخْبَارِ تَضَادٌ أَوْ تَهَاتُرٌ ، وَفَّقَنَا اللَّهُ لِمَا يُقَرِّبُنَا إِلَيْهِ ، وَيَزْلِفُنَا لَدَيْهِ مِنَ الْخُضُوعِ عِنْدَ وُرُودِ السُّنَنِ إِذَا صَحَّتْ ، وَالانْقِيَادِ لِقُبُولِهَا ، وَاتِّهَامِ الأَنْفُسِ ، وَإِلْزَاقِ الْعَيْبِ بِهَا إِذَا لَمْ نُوَفَّقْ لإِدْرَاكِ حَقِيقَةِ الصَّوَابِ دُونَ الْقَدْحِ فِي السُّنَنِ ، وَالتَّعَرُّجِ عَلَى الآرَاءِ الْمَنْكُوسَةِ ، وَالْمَقَايَسَاتِ الْمَعْكُوسَةِ ، إِنَّهُ خَيْرُ مَسْئُولٍ .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حج کا تلبیہ پڑھتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ہمارے ساتھ خواتین اور بچے بھی تھے جب ہم مکہ آئے، تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور موجود نہ ہو وہ احرام کھول دے۔ ہم نے کہا: کس حد تک حلال ہونا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکمل طور پر۔ جب تلبیہ کا دن آیا، تو ہم نے حج کا احرام باندھ لیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: تم لوگ ایک اونٹ اور ایک گائے میں حصے دار بن جاؤ۔ سات آدمیوں کی طرف سے ایک قربانی ہو۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمارے اس عمرے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا یہ اس سال کے لیے مخصوص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ ہمارے سامنے دینی احکام کو یوں بیان کیجئے جس طرح ہم ابھی پیدا ہوئے ہیں۔ عمل کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو آدمی کرتا ہے کیا اس بارے میں قلم خشک ہو چکا ہے اور تقدیر کا فیصلہ جاری ہو چکا ہے یا یہ ازسر نو کچھ ہوتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں بلکہ اس بارے میں قلم خشک ہو چکے ہیں اور تقدیر کا فیصلہ جاری ہو چکا ہے؟ میں نے دریافت کیا: پھر عمل کیوں کیا جائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم عمل کرو، کیونکہ ہر شخص کے لیے وہ چیز آسان کر دی جاتی ہے (جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے)۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) وہ روایات جو ہم نے ذکر کی ہیں۔ ان میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج افراد کرنے، یا حج تمتع یا حج قران کرنے کا تذکرہ ہے۔ اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس سے لے کر ہمارے آج کے دن تک ائمہ کے درمیان اختلاف رہا ہے۔ معطلہ فرقے کے افراد اور دیگر اہل بدعت اس حوالے سے ہمارے ائمہ پر طعن و تشنیع کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں: آپ لوگوں نے ایک ہی فعل، ایک ہی فرد اور ایک ہی حالت کے بارے میں تین متضاد روایات نقل کی ہیں اور آپ لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ نقل کے اعتبار سے یہ تینوں روایات صحیح ہیں حالانکہ عقل آپ کے موقف کو تسلیم نہیں کرتی کیونکہ یہ بات ناممکن ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد بھی کیا ہو، حج قران بھی کیا ہو اور حج تمتع بھی کیا ہو۔ تو جب یہ بات درست (طور پر ثابت) ہو گئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی حالت میں حج قران، تمتع اور افراد کرنے والے نہیں تھے تو یہ بات بھی ثابت ہو جائے گی کہ ان روایات کو قبول کرنا ضروری ہے جو عقل کے موافق ہوں۔ بعض اوقات آپ کے لیے یہ بات جائز ہوتی ہے کہ آپ کسی صحیح حدیث کو اختیار نہ کریں، آپ اس پر عمل نہ کریں، یا کسی دوسری روایت کو اس پر ترجیح دیں، جس طرح آپ نے ان تین روایات کے بارے میں کیا ہے، تو پھر آپ کے مخالف فریق کے لیے بھی یہ بات جائز ہو گی کہ وہ اس روایت کو اختیار کر لے جسے آپ نے ترک کر دیا اور اس روایت کو ترک کر دے جسے آپ نے اختیار کیا ہو۔ (ابن حبان کہتے ہیں) اس بات کا قائل شخص اگر خلوت میں اپنے پروردگار کی بارگاہ میں گریہ وزاری کرتا اور اس سے یہ دعا مانگتا کہ (اللہ تعالیٰ اسے) حق اور ہدایت تک پہنچا دے، تاکہ وہ شخص ” ایک “ اور ” غالب “ (معبود) کی عطا کردہ توفیق کے ذریعے روایات کے درمیان تطبیق دینے، اور آثار میں تضاد کی نفی کرنے کے لیے رہنمائی کا طلب گار ہوتا۔ (تو اسے پتہ چل جاتا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں پایا جاتا ہے۔ اور نہ ہی ان میں سے کوئی روایت کسی دوسری روایت کی تکذیب کرتی ہے جبکہ وہ نقل کے اعتبار سے مستند طور پر ثابت ہو۔ جس سے علم حدیث کے ماہرین آگاہ ہوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف (منسوب کی جانے والی) جھوٹی باتوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت (پر کیے جانے والے اعتراضات کو) پرے کرنے والے (حضرات محدثین) جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مستند طور پر منقول حدیث کو آپ کے بعد آنے والے آپ کی امت کے کسی بھی دوسرے شخص کے قول پر ترجیح دیتے ہیں۔ ان روایات کے درمیان تطبیق دینے کی صورت یوں ہو گی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا تو آپ نے عمرہ کا تلبیہ پڑھنا شروع کیا۔ امام مالک نے زہری، عروہ کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس طرح نقل کیا ہے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے تو آپ صرف عمرہ کا تلبیہ پڑھتے رہے، یہاں تک کہ جب آپ ” سرف“ کے مقام پر پہنچے تو آپ نے اپنے اصحاب کو وہ حکم دیا، جس کا ذکر ہم نے افلح بن حمید کے حوالے سے منقول روایت میں کیا ہے۔ تو اس وقت صحابہ کرام میں سے بعض حضرات نے حج افراد کا تلبیہ پڑھنا شروع کیا، بعض حضرات اپنے عمرہ کے تلبیہ پر برقرار رہے، (انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی) اس موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (حج اور عمرہ) دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پڑھا۔ یہاں تک کہ آپ مکہ میں داخل ہو گئے۔ آپ کے وہ اصحاب جو اپنے ساتھ قربانی کا جانور لے کر آئے تھے ان کی بھی یہی حالت تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج قران کے بارے میں جو بھی روایات نقل کی گئی ہیں۔ یہ اس وقت کے بارے میں ہیں جب صحابہ کرام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عمرہ کے ساتھ حج کو شامل کر کے ان دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پڑھتے ہوئے دیکھا۔ یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لے آئے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بیت اللہ کا) طواف کر لیا (صفا و مروہ کی) سعی کر لی، تو جو لوگ قربانی کا جانور ساتھ نہیں لائے تھے اور عمرہ کا تلبیہ پڑھتے رہے تھے۔ آپ نے انہیں دوسری مرتبہ یہ حکم دیا کہ وہ تمتع کر کے احرام کھول دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ قربانی کا جانور ساتھ لانے کی وجہ سے آپ کا تلبیہ رہ گیا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب جو اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہیں لائے تھے۔ انہوں نے احرام ختم نہیں کیا کیونکہ انہوں نے یہ دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام ختم نہیں کیا۔ یہاں تک کہ یہ صورتحال ہوئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے کے عالم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے جس کا ذکر ہم کر چکے ہیں۔ جب ترویہ کا دن آیا تو تمتع کرنے والوں نے (نئے سرے سے حج کا) احرام باندھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منی کی طرف روانہ ہوئے۔ آپ اس وقت صرف حج کا تلبیہ پڑھ رہے تھے، آپ آغاز میں جو عمرہ کا تلبیہ پڑھ رہے تھے، وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ مکرمہ تشریف لانے کے بعد خان کعبہ کا طواف کرنے، صفا و مروہ کی سعی کرنے سے ادا ہو چکا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جو یہ بات بیان کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج (کا تلبیہ پڑھا) اس سے ان کی مراد وہ وقت ہو گا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے منی کی طرف تشریف لے گئے تھے۔ اس طرح ان روایات میں کوئی تضاد اور اختلاف باقی نہیں رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس بات کی توفیق عطا کرے جو اس کی بارگاہ کا قرب دلاتی ہے اور اس کے قریب کرتی ہے۔ (یعنی) جب احادیث مستند طور پر ثابت ہو جائیں، تو ان کے سامنے جھک جائیں، اور انہیں قبول کرنے کے لیے سر تسلیم خم کر دیں اور جب ہمیں صحیح حقیقت کے ادراک کی توفیق نصیب نہ ہو تو ہم احادیث پر اعتراض کرنے، غلط آراء اور غلط قیاس کی پیروی کرنے کی بجائے اپنے آپ پر الزام عائد کریں اور اپنے آپ کے ساتھ عیب کو لاحق کریں۔ (یعنی اسے اپنی ذاتی خامی سمجھیں) بے شک وہ (یعنی اللہ تعالیٰ) سب سے بہتر مسئول ہے۔